Main Icon

باب: کرایہ کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2988

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم: «لِلسَّائِلِ حَقٌّ وَإِنْ جَاءَ عَلٰى فَرَسٍ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَفِي "الْمَصَابِيحِ": مُرْسَلٌ.

وعن الحسين بن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «للسائل حق وإن جاء على فرس» . رواه أحمد وأبو داود وفي "المصابيح": مرسل.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حسین ابن علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ مانگنے والے کا حق ہے اگرچہ وہ گھوڑے پر آئے ۱؎(احمد،ابوداؤد)۲؎اور مصابیح میں مرسل ہے ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگر کسی سائل بھکاری پر آثار غناہوں اور وہ اپنے کو فقیر ظاہر کرے تو اس کی بات پر اعتماد کرکے اسے صدقہ دے سکتے ہو،بہت دفعہ انسان کے پاس گھوڑا ہوتا ہے مگر اس کا سامان گرو اور قرض سر پر سوار ہوتا ہے اس لیے اس کا ظاہری حال نہ دیکھو اس کی بات کا اعتبار کرو،اگر وہ کہے کہ یہ گھوڑا کرایہ کا ہے مجھے بھی کچھ دو،اس گھوڑے کو بھی کچھ دو تو بھی اس کی بات مان لو۔اسی لیے یہ حدیث کرایہ کے باب میں لائے ورنہ صدقہ کو کرایہ سے کیا تعلق۔
۲
؎یہ حدیث ابوداؤد میں حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ سے طبرانی کبیر میں حضرت ہرماس ابن زیاد سے ابن عدی نے کامل میں حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ سائل کا حق ہے اگرچہ وہ گھوڑے پر سوار چاندی کی لگام لگائے آئے۔ (مرقات)
۳
؎حق یہ ہے کہ یہ حدیث مرسل نہیں بلکہ مسند ہے اگرچہ حضرت حسین نے حضور علیہ السلام کو بحالت سمجھ بوجھ نہ پایا مگر آپ نے یہ روایت حضرت عبداللّٰهابن عمر سے کی،شاید صاحب مصابیح کو اس پر اطلاع نہ ہوئی۔(از مرقات)مصابیح کے بعض نسخوں میں یہ لفظ نہیں ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2988