Main Icon

باب: کرایہ کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2989

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ عُتْبَةَ بْنِ الْمُنْذِرِ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ: (طٓسٓمٓ)حَتَّى بَلَّغَ قِصَّةَ مُوسٰى قَالَ: «إِنَّ مُوسٰى عَلَيْهِ السَّلَامُ آجَرَ نَفْسَهٗ ثَمَانِ سِنِينَ أَوْ عَشْرًا عَلٰى عِفَّةِ فَرْجِهٖ وَطَعَامِ بَطْنِهٖ » . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْن مَاجَه

عن عتبة بن المنذر قال: كنا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقرأ: (طسم)حتى بلغ قصة موسى قال: «إن موسى عليه السلام آجر نفسه ثمان سنين أو عشرا على عفة فرجه وطعام بطنه » . رواه أحمد وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عتبہ ابن نذر سے ۱؎فرماتے ہیں ہم رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کے پاس تھے کہ آپ نے سورۃطسمپڑھی حتی کہ حضرت موسیٰ کے قصہ پر پہنچے ۲؎فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنے نفس کو اپنی پاکدامنی کی حفاظت اور اپنے پیٹ کی روٹی پر آٹھ یا دس سال اجرت پر دیا ۳؎(احمد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎بعض نسخوں میں عقبہ ابن منذر ہے،بعض میں عتبہ ابن ندر،ن کا پیش دال مشدد مفتوح،بعض میں عتبہ ابن عبدسلمٰی ہے،غرضکہ ان کے نام میں بہت گفتگو ہے۔
۲
؎یعنی حضور انور نے سورۂ قصص تلاوت کی جس میں موسیٰ علیہ السلام کا حضرت شعیب علیہ السلام کے ہاں رہنا آٹھ بلکہ دس سال بکریاں چَرانا ان کی صاحبزادی صفورا سے نکاح وغیرہ مذکور ہے۔
۳
؎مقصد یہ ہے کہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے محنت مزدوری کرنا اچھا ہے سوال بُرا،بڑے سے بڑے شخص کو معمولی محنت سے عار نہ کرنی چاہیے۔خیال رہے کہ موسیٰ علیہ السلام کا حضرت شعیب کی بکریاں چرانا بی بی صفورا کا مہر نہ تھا بلکہ نکاح کی شرط تھی اس لیے آپ نے فرمایاتھا"عَلٰۤی اَنۡ تَاۡجُرَنِیۡ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ"تم میری مزدوری آٹھ سال کرو،اگر مہر ہوتا توعلٰیکی بجائےبآتی اور آپ اپنے بجائے بی بی صفورا کا ذکر فرماتے،قرآن کریم فرماتاہے:"اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ"بیویاں اپنے مالوں سے تلاش کرو لہذا مذہب حنفی بالکل حق ہے کہ مہر میں مال دینا پڑے گا خدمت زوجہ مہر نہیں بن سکتا،امام شافعی کا فرمان کہ خدمت پر نکاح درست ہے،اس آیت سے ثابت نہیں ہوتا۔خیال رہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام کو آٹھ دس سال بکریوں کے بہانہ سے رکھا مگر مقصود تھا انہیں اپنے پاس رکھ کر کلیماللّٰهبننے کے لائق بنانا،ڈاکٹر اقبال نے ایک شعرمیں یہ مضمون حل کردیا۔شعر
اگرکوئی شعیب آئے میسر شبانی سے کلیمی دو قدم ہے

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2989