Main Icon

باب: بخششوں کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3015

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمْسِكُوا أَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ لَا تُفْسِدُوهَا فَإِنَّهٗ مَنْ أَعْمَرَ عُمْرٰى فَهِيَ لِلَّذِي أُعْمِرَحَيًّا وَمَيِّتًا وَلِعَقَبِهٖ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

عن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أمسكوا أموالكم عليكم لا تفسدوها فإنه من أعمر عمرى فهي للذي أعمرحيا وميتا ولعقبه» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اپنے مال اپنے پاس محفوظ رکھو انہیں بگاڑو مت ۱؎جسے کچھ عمری کے طورپر دیا گیا تو مرے جئے اس کا ہے اور اس کے پسماندگان کا ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎مطلب یہ ہے کہ تم جو مال اپنے پاس رکھنا چاہتے ہو اسے کسی کو بطور عمری یا رقبیٰ نہ دو کہ اس سے تمہارا مال بگڑ جائے گا کہ تمہیں واپس نہ ملے گا اور تمہارا مدعا پورا نہ ہوگا،یہ مطلب نہیں کہ عمری یا رقبیٰ کرنا اپنا مال بگاڑنا ہے کہ یہ تو مخلوق پر مہربانی ہے جس پر ثواب کی امید ہے لہذا مطلب واضح ہے۔
۲
؎لِلَّذِیکا لام ملکیت کا ہے یعنی عمریٰ معمرلہ کی ملکیت میں تام ہوگا کہ وہ اس کے فروخت کرنے کا بھی مجاز ہوگا اور اس کے مرنے پر وہ چیز اس کے ورثاء کو ملے گی،یہ حدیث بھی جمہور علماء کی دلیل ہے کہ عمری عاریت نہیں ہوتا بلکہ ملکیت ہوتا ہے۔حضرت امام مالک وغیرہ اسے عاریت مانتے ہیں،یہ حدیث ان کے خلاف ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3015