Main Icon

باب: بخششوں کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3013

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُرْقِبُواأَو لَا تُعْمِرُوا فَمَنْ أُرْقِبَ شَيْئًا أَوْ أُعْمِرَ فَهِيَ لوَرثَتِهٖ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا ترقبواأو لا تعمروا فمن أرقب شيئا أو أعمر فهي لورثته» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا نہ کسی کو کچھ بطور رقبی دو نہ بطور عمری ۱؎جسے کچھ رقبی یا عمری دیا گیا تو وہ اس کا اور اس کے وارثوں کا ہے ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎رقبی ارقابسے ہے جومراقبۃسے بنا،رقب گردن کو کہتے ہیں،سوچنا،انتظار کرنا رقبی کہلاتا ہے کہ وہ بھی گردن ڈال کر ہی ہوتا ہے،رقبے یہ ہے کہ کہے یہ چیز تجھے دیتا ہوں لیکن اگر تو پہلے مرجائے تو میری ہوگی اور اگر میں پہلے مرجاؤں تو مستقل تیری ہوگی، چونکہ اس صورت میں ہر ایک دوسرے کی موت کا انتظارکرتا ہے اس لیے اسے رقبی کہتے ہیں،عمریٰکے معنی پہلے عرض ہوچکے۔لاترقبواکی نہی بطور مشورہ ہے نہ کہ حرمت کے لیے یا یہ مطلب ہے کہ واپسی کی نیت سے رقبی عمری نہ کرو۔
۲
؎یعنی رقبیٰ ہو یا عمریٰ چونکہ یہ ہبہ بالشرط ہے لہذا ہبہ درست ہے اور شرط باطل اور وہ شے کبھی بھی واہب کو نہ واپس ہوگی یہ حدیث جمہور علماء کی دلیل ہے کہ رقبیٰ اور ہر طرح کا عمرہ موہوب لہ کہ مستقل مالک کردیتا ہے،چونکہ حدیث مرفوع ہے لہذا موقوف کے مقابل یہ ہی راجح ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3013