Main Icon

باب: بخششوں کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3011

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ أُعْمِرَ عُمْرٰى لَهٗ وَلِعَقَبِهٖ، فَإِنَّهَا لِلَّذِي أُعْطِيهَا، لَا تَرْجِعُ إِلَى الَّذِي أَعْطَاهَا؛ لأَنَّهٗ أَعْطٰى عَطَاءً وَقَعَتْ فِيهِ الْمَوَارِيثُ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أيما رجل أعمر عمرى له ولعقبه، فإنها للذي أعطيها، لا ترجع إلى الذي أعطاها؛ لأنه أعطى عطاء وقعت فيه المواريث»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلى الله عليه وسلم نے جس شخص کو کچھ چیز بطور عمری دی گئی اسے اور اس کے پسماندگان کو ۱؎تو وہ عمری اس کا ہوگا جسے دیا گیا دینے والے کو واپس نہ ملے گا ۲؎کیونکہ وہ ایسا عطیہ دے چکا ہے جس میں وراثتیں واقع ہوگئیں ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ اس سے کہا گیا یہ چیز تاحین حیات تیری ہے اور تیرے بعد تیرے وارثوں کی،یہ پہلی قسم کا عمریٰ ہے۔عقبقاف کے کسرہ سے ہے بمعنی پیچھے رہنے والے لوگ یعنی ورثاء خواہ اولاد ہوں یا دوسرے وارث بعض نے کہاعقبقاف کے سکون سے ہے۔
۲
؎امام مالک کے ہاں تو صرف یہ عمریٰ جس میں وارثوں کا بھی ذکر ہو واپس نہ ہوگا،جمہور علماء جیسے امام ابوحنیفہ و شافعی وغیرہم کے ہاں ہر عمریٰ کا یہ ہی حکم ہے خواہ یہ شرط لگائے یا نہ لگائے جیساکہ پہلے عرض کیا گیا۔
۳
؎خلاصہ یہ ہے کہ عمریٰ ہبہ کی قسم ہے اور ہبہ کا حکم یہ ہے کہ موہوب لہ کے بعد واہب کو واپس نہیں ہوسکتا،موت مانع رد ہے مانع رد کل سات چیزیں ہیں جودمع خزقہمیں جمع ہیں،زیادۃ،موت،عوض خروج عن الملک، زوجیت،قرابت،ہلاکت۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3011