Main Icon

باب:خوش طبعی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4891

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيْرٍ قَالَ: اِسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَ صَوْتَ عَائِشَةَ عَالِيًا فَلَمَّا دَخَلَ تَنَاوَلَهَا لِيَلْطِمَهَا وَقَالَ: لَا أَرَاكِ تَرْفَعِينَ صَوْتَكِ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم يَحْجُزُهٗ وَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ مُغْضَبًا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ: كَيْفَ رَأَيْتِنِي أَنْقَذْتُكِ مِنَ الرَّجُلِ؟ . قَالَ: فَمَكَثَ أَبُو بَكْرٍ أَيَّامًا ثُمَّ اسْتَأْذَنَ فَوَجَدَهُمَا قَدِ اصْطَلَحَا فَقَالَ لَهُمَا: أَدْخِلَانِي فِي سِلْمِكُمَا كَمَا أَدْخَلْتُمَانِي فِي حَرْبِكُمَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ فَعَلْنَا قَدْ فَعَلْنَا . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن النعمان بن بشير قال: استأذن أبو بكر على النبي صلى الله عليه وسلم فسمع صوت عائشة عاليا فلما دخل تناولها ليلطمها وقال: لا أراك ترفعين صوتك على رسول الله صلى الله عليه وسلم فجعل النبي صلى الله عليه وسلم يحجزه وخرج أبو بكر مغضبا. فقال النبي صلى الله عليه وسلم حين خرج أبو بكر: كيف رأيتني أنقذتك من الرجل؟ . قال: فمكث أبو بكر أياما ثم استأذن فوجدهما قد اصطلحا فقال لهما: أدخلاني في سلمكما كما أدخلتماني في حربكما فقال النبي صلى الله عليه وسلم: قد فعلنا قد فعلنا . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت نعمان ابن بشیر سے ۱∞؎فرماتے ہیں اجازت مانگی حضرت ابوبکر نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے تو حضرت عائشہ کی آواز سنی بلند ۲؎تو جب آئے تو انہیں پکڑا تاکہ طمانچہ مار دیں اور فرمایا میں تم کو نہ دیکھوں کہ تم اپنی آواز نبی صلی الله علیہ وسلم پر اونچی کرتی ہو۳؎تو نبی صلی الله علیہ وسلم ان کو روکنے لگے۴؎اور حضرت ابوبکر ناراض ہوکر چلے گئے ۵؎تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جب کہ ابوبکر صدیق چلے گئے بولو تم نے مجھے کیسا دیکھا میں نے تم کو ان صاحب سے بچالیا ۶؎راوی کہتے ہیں کہ پھر کچھ دن حضرت ابوبکر ٹھہرے پھر اجازت مانگی ۷؎تو ان دونوں حضرات کو صلح محبت میں پایا ان سے عرض کیا کہ مجھے اپنی صلح صفائی میں داخل کرلو ۸؎جیسے تم نے مجھے ا پنی لڑائی میں داخل کیا تھا ۹؎تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہم نے کرلیا ہم نے کرلیا ۱۰؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کے حالات زندگی بارہا بیان ہوچکے کہ آپ اسلام میں پہلے فرزند ہیں جو اسلام میں پیدا ہوئے،حضور انور کی وفات کے وقت آپ کی عمر آٹھ سال سات ماہ کی تھی،آپ کے والدین صحابی ہیں،بقیہ حالات بیان کیے جاچکے ہیں۔
۲
؎یعنی حضور صلی الله علیہ وسلم کو کسی بات کا جواب بلند آواز سے دے رہی تھیں یا بے پرواہی میں یا غصہ میں محبوب کا غصہ بھی پیارا ہوتا ہے اسی لیے اس پر قرآن کریم میں عتاب نہیں آیا ورنہ قرآن کریم فرماتا ہے:"لَا تَرْفَعُوۡۤا اَصْوٰتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ
۳
؎اس جملہ کی روایت تین طرح ہے:لا اراكمیں تم کو دیکھ رہا ہوں،لا اراكمیں تم کو آئندہ نہ دیکھوں،لا اراكکیا میں تم کو نہیں دیکھتا دوسری روایت قوی تر ہے کہ یہ کلمہ نہیں ہے اور مطلب یہ ہے کہ آپ نے گزشتہ پر سزا دینے کے لیے طمانچہ مارنا چاہا اور آئندہ کے لیے منع فرمایا یہ طمانچہ اس تادیب میں سے ہے جو والدین اپنی اولاد کو کیا کرتے ہیں۔مرقات نے فرمایا کہ یہ کلمہ دعا ہے یعنی خدا کرے میں تم کو حضور کے سامنے اونچی آواز کرتے نہ دیکھوں۔
۴
؎یا اس طرح کہ حضور انور نے حضرت صدیق کو پکڑ لیا کہ وہ نہ ماریں یا اس طرح کہ حضور انور دونوں کے درمیان آڑ ہوگئے کہ حضرت صدیق و صدیقہ کے درمیان کھڑے ہوگئے۔
۵
؎حضرت عائشہ صدیقہ پر ناراض ہوکر گھر سے باہر چلے گئے یہ ناراضگی بھی عبادت ہے۔
۶
؎خیال رہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے یہاںمنایک نہ فرمایاالرجلفرمایا یعنی بہادر مرد جسے الله رسول کے لیے تم پر غصہ آیا یہ غصہ ان کی بہادری کی علامت ہے۔(مرقات)۷؎یعنی کچھ روز حضرت عائشہ صدیقہ کے گھر نہ آئے یا اتفاقًا یا حضرت صدیقہ پر ناراضگی کی وجہ سے،پہلا احتمال قوی ہے پھر حاضر ہوئے شاید تین روز کے بعد حاضر ہوئے۔
۸
؎صلح سے مراد پیارومحبت ہے اور حرب سے مراد وہ ناراضگی جو زوجین کی آپس میں ہو جاتی ہے یہ ناراضگی بھی زیادہ محبت کی بنا پر ہوتی ہے۔
۹
؎ادخال کی نسبت حضور کی طرف سبب کی بنا پر ہے یعنی آپ دونوں کی شکر رنجی میرے اس معاملہ میں دخل دینے کا باعث بنی۔
۱۰
؎حضور انور نےفعلنادو بار فرمایا ایک بار اپنی طرف سے دوسری بار جناب عائشہ صدیقہ کی طرف سے یعنی میں نے اور تمہاری لخت جگر نورنظر عائشہ صدیقہ نے بھی اپنی صلح میں داخل کرلیا اس طرح کہ تم ہمیشہ کے لیے ہمارے ہر کام میں دخیل ہوگئے ہمارے گھر کے تم کار مختار ہوگئے رضی الله تعالیٰ عنہ۔اس حدیث کوباب المزاحمیں صرف ایک جملہ کی وجہ سے لایا گیا کہ عائشہ دیکھا ہم نے تم کو کیسا بچایا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4891