Main Icon

باب:خوش طبعی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4886

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا اسْتَحْمَلَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي حَامِلُكَ عَلٰى وَلَدِ نَاقَةٍ؟ فَقَالَ: مَا أَصْنَعُ بِوَلَدِ النَّاقَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَهَلْ تَلِدُ الْإِبِلُ إِلَّا النُّوقُ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ

وعن أنس أن رجلا استحمل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني حاملك على ولد ناقة؟ فقال: ما أصنع بولد الناقة؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: وهل تلد الإبل إلا النوق . رواه الترمذي وأبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے ایک شخص نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے سواری مانگی تو فرمایا کہ ہم تم کو اونٹنی کے بچہ پر سوار کریں گے ۱∞؎وہ بولا میں اونٹنی کے بچہ کا کیا کروں گا تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ اونٹ کو اونٹنی ہی جنتی ہے ۲؎(ترمذی، ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اصطلاح میں اونٹنی کا بچہ چھوٹے اونٹ کو کہتے ہیں جو سواری کے لائق نہ ہو۔یہ ہوئی خوش طبعی وہ صاحب بھی یہ ہی سمجھے کہ حضور انور مجھے چھوٹا سا اونٹنی کا بچہ عطا فرمائیں گے اس پر انہوں نے وہ عرض و معروض کی جو آگے آرہی ہے۔
۲
؎یعنی اونٹ بڑا ہوکر بھی اونٹنی کا ہی بچہ رہتا ہےکسی اور جانور کا بچہ نہیں بن جاتا۔معلوم ہوا کہ خوش طبعی میں کسی لفظ کے بعید معنی مراد لینا جائز ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4886