Main Icon

باب:خوش طبعی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4885

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنَّكَ تُدَاعِبُنَا. قَالَ: إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَّا حَقًا . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

عن أبي هريرة قال: قالوا: يا رسول الله إنك تداعبنا. قال: إني لا أقول إلا حقا . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے ابوہریرہ سے فرماتے ہیں صحابہ نے عرض کیا یارسول الله آپ ہم سے خوش طبعی فرماتے ہیں ۱∞؎فرمایا ہم نہیں کہتے مگر سچی بات ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی آقا حضور دونوں جہاں کے والی ہیں ہم لوگ نوکر چاکر حضور کے خدام ہیں،ہم جیسوں سے حضور انور کا خوش طبعی فرمانا حیرت در حیرت ہے یا مطلب یہ ہے کہ وہ حضرت خوش طبعی کو ناجائز سمجھتے تھے تب یہ عرض کیا۔
۲
؎یعنی وہ دل لگی و مذاق حرام ہے جس میں جھوٹ بولا جاوے یا کسی کو ذلیل کیا جاوے ہماری خوش طبعی میں یہ دونوں باتیں نہیں ہوتی لہذا یہ جائز ہے۔خیال رہے کہ ہر وقت دل لگی و مذاق ہیبت دورکر دیتا ہے اس لیے کبھی کبھی شاذ و نادر ہی چاہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4885