Main Icon

باب:خوش طبعی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4890

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ فَسَلَّمْتُ فَرَدَّ عَلَيَّ وَقَالَ: اُدْخُلْ فَقُلْتُ: أَكُلِّي يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ: كُلُّكَ فَدَخَلْتُ. قَالَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِيْ الْعَاتِكَةِ: إِنَّمَا قَالَ أَدْخُلُ كُلِّي مِنْ صِغَرِ الْقُبَّةِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن عوف بن مالك الأشجعي قال: أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة تبوك وهو في قبة من أدم فسلمت فرد علي وقال: ادخل فقلت: أكلي يا رسول الله؟ قال: كلك فدخلت. قال عثمان بن أبي العاتكة: إنما قال أدخل كلي من صغر القبة. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عوف ابن مالک اشجعی سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں غزوہ تبوک میں حاضر ہوا آپ چمڑے کے خیمے میں تھے میں نے سلام کیا آپ نے مجھے جواب دیا اور فرمایا اندر آجاؤ میں نے کہا پورا یا رسول الله نے فرمایا تم پورے ہی آجاؤ ۲؎میں حاضر ہوگیا عثمان ابن عاتکہ فرماتے ہیں ۳؎کہ انہوں نے خیمہ کے چھوٹے ہونے کی وجہ سے عرض کیا کہ کیا پورا آجاؤں۔ (ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎صحابی ہیں،غزوہ خیبر میں حاضر ہوئے،فتح مکہ کے دن قبیلہ اشجع کا جھنڈا آپ کے ہاتھ تھا،شام میں رہے، ۷۳؁∞ تہتر میں وفات پائی۔
۲
؎سبحان الله!کیسا پیارا کلام ہے۔مقصد یہ ہے کہ خیمہ چھوٹا ہے اس میں گنجائش ہے نہیں میں کل پورا کا پورا آجاؤں یا میرا کچھ حصہ آئے ظاہر معنی مراد ہیں۔
۳
؎یہ عثمان تابعی ہیں،حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے وقت آپ کل آٹھ سال سات ماہ کے تھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4890