Main Icon

باب : جگہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1113

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّهٗ سُئِلَ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ الْمِنْبَرُ؟ فَقَالَ: هُوَ مِنْ أَثْلِ الْغَابَةِ عَمِلَهٗ فُلَانٌ مَوْلٰى فُلَانَةٍ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ عُمِلَ وَوُضِعَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَكَبَّرَ وَقَامَ النَّاسُ خَلْفَهٗ فَقَرَأَ وَرَكَعَ وَرَكَعَ النَّاسُ خَلْفَهٗ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهٗ ثُمَّ رَجَعَ الْقَهْقَرٰى فَسَجَدَ عَلَی الأَرْضِ ثُمَّ عَادَ إِلَى المِنْبَرِ ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهٗ ثُمَّ رَجَعَ الْقَهْقَرِي حَتّٰى سجد بِالْأَرْضِ. هٰذَا لفظ البُخَارِيّ وَفِي (الْمُتَّفَقِ عَلَيْهِ) نَحْوَهٗ وَقَالَ فِي آخِرِهٖ: فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا صَنَعْتُ هٰذَا لِتَأْتَمُّوا بِي وَلِتَعْلَمُوا صَلَاتِي»

وعن سهل بن سعد الساعدي أنه سئل: من أي شيء المنبر؟ فقال: هو من أثل الغابة عمله فلان مولى فلانة لرسول الله صلى الله عليه وسلم وقام عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم حين عمل ووضع فاستقبل القبلة وكبر وقام الناس خلفه فقرأ وركع وركع الناس خلفه ثم رفع رأسه ثم رجع القهقرى فسجد علی الأرض ثم عاد إلى المنبر ثم قرأ ثم ركع ثم رفع رأسه ثم رجع القهقري حتى سجد بالأرض. هذا لفظ البخاري وفي (المتفق عليه) نحوه وقال في آخره: فلما فرغ أقبل علی الناس فقال: «أيها الناس إنما صنعت هذا لتأتموا بي ولتعلموا صلاتي»

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سہل ابن سعد ساعدی سے ۱؎ان سے پوچھا گیا کہ منبر کس چیز کا تھا،فرمایا جنگل کے جھاؤ کا، اسے فلاں فلانی کے مولے نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے لیے بنایا ۲؎اور جب بنایا اور رکھا گیا تو حضور صلی الله علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے قبلہ کو منہ کیا اور تکبیر کہی لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے آپ نے قرأت کی اور رکوع کیا اور لوگوں نے آپ کے پیچھے رکوع کیا پھر اپنا سر اٹھایا پھر الٹے پاؤں لوٹے پھر زمین پر سجدہ کیا پھر منبر کی طرف لوٹے ۳؎پھر قرأت کی پھر رکوع کیا پھر سر اٹھایا پھر پیچھے لوٹے حتی کہ زمین پر سجدہ کیا یہ بخاری کے لفظ ہیں اور مسلم بخاری میں اس کی مثل ہے اور اس کے آخر میں فرمایا کہ جب فارغ ہوئے تو لوگوں پر متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ اے لوگوں میں نے یہ اس لیے کیا تاکہ تم میری اقتداء کرو اور میری نماز کو جان لو ۴؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ مشہور صحابی ہیں،آپ کا نام حرمن تھا،حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے سہل رکھا،کنیت ابوالعباس، حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے وقت آپ پندرہ سال کے تھے،آپ کی وفات مدینہ منورہ میں۹۱ھ ∞ میں ہوئی،آپ مدینہ کے آخری صحابی ہیں۔
۲
؎بنانے والے کا نام یعقوم رومی ہے یا سیموں رومی اور ان بی بی کا نام عائشہ انصار یہ ہے،یعقوم لکڑی کے کاری گر تھے، حضور صلی الله علیہ وسلم نے انصار یہ سے خود فرمایا تھا کہ اپنے غلام سے منبر بنوا دو کیونکہ مسلمان زیادہ ہوچکے تھے اس سے پہلے حضور انور صلی الله علیہ وسلم ستون حنانہ سے ٹیک لگا کر خطبہ پڑھا کرتے تھے،اس منبر کی تین سیڑھیاں تھیں ہر سیڑھی کی بلندی ایک بالشت لمبائی ایک ہاتھ تھی۔ (ازمرقاۃ واشعۃ)
۳
؎یعنی آپ کا قیام و رکوع منبر پر ہوا اور سجدہ زمین پر کیونکہ جمعہ میں دیہات سے بھی مسلمان آتے تھے،انہیں نماز سکھانے کے لیے حضور صلی الله علیہ وسلم اونچے کھڑے ہوئے،اب کسی امام کو اس طرح نماز پڑھانی جائز نہیں،یہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی خصوصیات میں سے ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام بحالت نماز حضور صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کرتے تھے اور حضور صلی الله علیہ وسلم سے نماز سیکھا کرتے تھے،ہم سجدہ گاہ کو دیکھیں وہ قبلہ گاہ کو دیکھتے تھے۔
۴
؎بلکہ منبر بھی اسی لیے بنایا گیا اگرتَعَلَّملام کی شد سے ہو تو معنی ہوں گے تم نماز سیکھ لو،غالب یہ ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے منبر کی تیسری سیڑھی پر نماز پڑھی،پھر رکوع کے بعد مسلسل تین قدم سے اترے مصلے پر پہنچے، پھر سجدہ کے بعد مسلسل قدموں سے منبر پر پہنچے، ہمارے واسطے یہ اعمال مفسد نماز ہیں،لہذا یہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی خصوصیات میں سے ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1113