Main Icon

باب : جگہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1114

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: صَلّٰى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُجْرَتِهٖ وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِهٖ مِنْ وَرَاءِ الْحُجْرَةِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وعن عائشة قالت: صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجرته والناس يأتمون به من وراء الحجرة. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے اپنے حجرے میں نماز پڑھی اور لوگ حجرے کے پیچھے آپ کی اقتداء کررہے تھے ۱؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یہ نماز تراویح تھی اور حجرہ چٹائی کا تھا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے اعتکاف کے لیے اپنے پاس چٹائی کھڑی کرلی تھی،عائشہ صدیقہ کا حجرہ مراد نہیں کیونکہ اس میں رہتے ہوئے لوگ آپ کی اقتداء نہیں کرسکتے تھے کیونکہ آپ کسی کو نظر نہ آتے۔خیال رہے کہ اب بھی اگر چٹائی اتنی چھوٹی ہو کہ کھڑے ہونے پر مقتدیوں کو امام نظر آسکے تو اس کے پیچھے نماز جائز ہے، بعض شارحین نے سمجھا کہ یہ مرض وفات شریف کی نماز ہے اور حضور صلی الله علیہ وسلم نے عائشہ صدیقہ کے حجرے سے نماز پڑھائی ہے مگر یہ غلط ہے کیونکہ اس زمانہ میں حضرت صدیق اکبر رضی الله عنہ امام رہے ہیں حضور صلی الله علیہ وسلم دوران جماعت میں دو آدمیوں کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر باہر تشریف لائے لہذا اس حدیث سے یہ مسئلہ ثابت نہیں ہوسکتا کہ امام حجرے میں رہ کر مسجد کے نمازیوں کو پڑھائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1114