Main Icon

باب : جگہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1116

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ: بَيْنَا أَنَا فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ فَجَبَذَنِي رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي جَبْذَةً فَنَحَّانِي وَقَامَ مَقَامِي فَوَاللهِ مَا عَقَلْتُ صَلَاتِي. فَلَمَّا انْصَرَفَ إِذَا هُوَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَقَالَ: يَا فَتٰى لَا يَسُوءُكَ اللهُ إِنَّ هٰذَا عَهْدٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا أَنْ نَلِيَهٗ ثُمَّ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَقَالَ: هَلَكَ أَهْلُ الْعُقَدِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: وَاللهِ مَا عَلَيْهِمْ آسٰى وَلَكِنْ آسٰى عَلیٰ مَنْ أَضَلُّوا. قُلْتُ يَا أَبَا يَعْقُوبَ مَا تَعْنِي بِأَهْلِ الْعُقَدِ ؟ قَالَ: الْأُمَرَاءُ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ

وعن قيس بن عباد قال: بينا أنا في المسجد في الصف المقدم فجبذني رجل من خلفي جبذة فنحاني وقام مقامي فوالله ما عقلت صلاتي. فلما انصرف إذا هو أبي بن كعب فقال: يا فتى لا يسوءك الله إن هذا عهد من النبي صلى الله عليه وسلم إلينا أن نليه ثم استقبل القبلة فقال: هلك أهل العقد ورب الكعبة ثلاثا ثم قال: والله ما عليهم آسى ولكن آسى علی من أضلوا. قلت يا أبا يعقوب ما تعني بأهل العقد ؟ قال: الأمراء. رواه النسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضر ت قیس ابن عباد سے ۱؎فرماتے ہیں اس حال میں کہ میں مسجد میں پہلی صف میں تھا کہ مجھے پیچھے سے کسی نے کھینچا مجھے ہٹادیا اور میری جگہ خود کھڑا ہوگیا خدا کی قسم مجھے اپنی نماز کی خبر نہ رہی ۲؎جب فارغ ہوئے وہ ابی ابن کعب تھے فرمایا اے جوان الله تمہیں کبھی غمگین نہ کرے یہ حضور صلی الله علیہ وسلم کا ہم سے عہد ہے کہ آپ سے قریب رہیں ۳؎پھر آپ قبلہ رو ہوئے اور فرمایا رب کعبہ کی قسم حکومتوں والے ہلاک ہوگئے تین بار کہا پھر فرمایا خدا کی قسم ان پر غم نہیں کرتا لیکن غم ان پر کرتا ہوں جنہوں نے انہیں بہکایا میں نے کہا اے ابو یعقوب عقد والوں سے آپ کی کیا مراد ہے فرمایا امیر لوگ ۴؎(نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ تابعین بصرہ میں سے ہیں،ثقہ ہیں،بہت کم حدیثیں بیان کرتے تھے عبادت گزار شب بیدار تھے،اشعۃ اللمعات نے انہیں شیعہ کہا۔واللّٰہ اعلم !آپ کو حجاج نے قتل کرایا۔
۲
؎یعنی مجھے اتنا غصہ آیا کہ یہی یاد نہ رہا کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں اور کتنی باقی ہیں،کیونکہ افضل جگہ سے ہٹنا مجھے بہت ناگوارگزرا اسی لیے حضرت ابی ابن کعب نے اگلا کلام فرمایا۔
۳
؎یعنی امام کے پیچھے عاقل بالغ علم والا کھڑا ہو کہ بوقت ضرورت امام کے قائم مقام کھڑا ہوسکے،۔غالب یہ ہے کہ قیس نابالغ تھے اس لیے انہیں ہٹایا گیا۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ کسی کو اس کی جگہ سے ہٹا کر خود کھڑا ہونا ممنوع ہے مگر شرعی ضرورت سے جائز ہے۔دوسرے یہ کہ بچہ بڑے کے برابر نمازمیں کھڑا ہوجائے توا س سے بڑے کی نماز جاتی نہیں،کیونکہ اب تک جن کے برابر قیس کھڑے تھے ان کی نماز درست رہی۔تیسرے یہ کہ امام کے پیچھے لائق امامت آدمی کھڑا ہو۔۴؎آپ کا اشارہ آئندہ ظالم حکام کی طرف ہے جیسے بنی امیہ کے ظالم بادشاہ اور ان کا عملہ فرما یہ رہے ہیں کہ وہ حکام بھی ہلاک اور انہیں حاکم بنانے والے مسلمان بھی برباد ہوں گے کیونکہ حضرت ابی ابن کعب کی وفات زمانہ عثمان میں ہوئی اس وقت تک خلفاء نائب رسول تھے اور انکے حکام عادل۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1116