Main Icon

باب: نماز پڑھنے کا طریقہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 792

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيّ قَالَ: فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَا أَحْفَظُكُمْ لِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُهٗ إِذَا كَبَّرَ جَعَلَ يَدَيْهِ حِذَاءَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا رَكَعَ أَمْكَنَ يَدَيْهِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ ثُمَّ هَصَرَ ظَهْرَهٗ فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهٗ اسْتَوٰى حَتّٰى يَعُودَ كُلُّ فَقَارٍ مَكَانَهٗ فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَ يَدَيْهِ غَيْرَ مُفْتَرِشٍ وَلَا قَابِضِهِمَا وَاسْتَقْبَلَ بِأَطْرَافِ أَصَابِعِ رِجْلَيْهِ الْقِبْلَةَ فَإِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ جَلَسَ عَلٰى رِجْلِهِ الْيُسْرٰى وَنَصَبَ الْيُمْنٰى وَإِذا جَلَسَ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ قَدَّمَ رِجْلَهُ الْيُسْرٰى وَنَصَبَ الْأُخْرٰى وَقَعَدَ عَلٰى مَقْعَدَتِهٖ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

وعن أبي حميد الساعدي قال: في نفر من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم : أنا أحفظكم لصلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم رأيته إذا كبر جعل يديه حذاء منكبيه وإذا ركع أمكن يديه من ركبتيه ثم هصر ظهره فإذا رفع رأسه استوى حتى يعود كل فقار مكانه فإذا سجد وضع يديه غير مفترش ولا قابضهما واستقبل بأطراف أصابع رجليه القبلة فإذا جلس في الركعتين جلس على رجله اليسرى ونصب اليمنى وإذا جلس في الركعة الآخرة قدم رجله اليسرى ونصب الأخرى وقعد على مقعدته. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوحمید ساعدی سے ۱؎انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے صحابہ کی ایک جماعت میں فرمایا کہ میں حضور انور کی نماز کا تم سب سے زیادہ حافظ ہوں میں نے حضورصلی الله علیہ و سلم کو دیکھا جب تکبیر کہتے تو اپنے ہاتھ اپنے کندھوں کے مقابل کرتے ۲؎اورجب رکوع کرتے تو اپنے ہاتھوں سے گھٹنے مضبوط پکڑتے ۳؎پھر اپنی پیٹھ جھکاتے پھر جب سر اٹھاتے تو سیدھے کھڑے ہوجاتے حتی کہ ہر جوڑ اپنی جگہ لوٹ جاتا پھر جب سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھ یوں رکھتے کہ نہ بچھاتے نہ سمیٹتے ۴؎اور پاؤں کی انگلیوں کے سرے قبلہ رخ کرتے ۵؎پھر جب دو رکعتوں میں بیٹھتے تو اپنے بائیں پاؤں پر بیٹھتے اور دایاں کھڑا کرتے پھر جب آخری رکعت میں بیٹھتے تو اپنا بایاں پاؤں آگے نکالتے او ر دوسرا پاؤں کھڑا کرتے اور کولہے پر بیٹھتے ۶؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام عبدالرحمن یا کچھ اور ہے ،قبیلہ بنی ساعدہ سے ہیں، انصاری ہیں، اپنے گاؤں میں رہتے تھے، حضور صلی الله علیہ و سلم کی زیارت کے لیے آتے رہتے تھے اسی لیے اس موقع پر صحابہ نے بطور تعجب پوچھاکہ اے ابوحمید!تم کو حضور صلی الله علیہ و سلم کی صحبت زیادہ میسر نہ ہوئی تم حضور صلی الله علیہ و سلم کی نماز سے زیادہ واقف کیسے ہوگئے جیسا کہ ابوداؤد کی روایت میں ہے۔
۲
؎اس طرح کہ ہاتھ کے گٹے کندھوں کے مقابل ہوتے اور انگوٹھے کانوں کے مقابل لہذایہ حدیث مسلم، بخاری کی اس روایت کے خلاف نہیں جو ابھی آرہی ہے جس میں یہ ہے کہ حضور انورصلی الله علیہ و سلم اپنے ہاتھ کانوں تک اٹھاتے تھے کیونکہ وہاں انگوٹھے مراد ہیں جو لوگ کندھوں سے انگوٹھے لگاتے ہیں وہ اس حدیث پرعمل نہیں کرسکتے،حنفیوں کا عمل اس پر بھی ہے اور اس پر بھی،لہذا یہ حدیث حنفیوں کے بالکل خلاف نہیں،بلکہ موافق ہے۔کانوں تک ہاتھ اٹھانے کی پوری بحث ہماری کتاب "جاءالحق"حصہ دوم میں دیکھوجہاں اس پر بیس حدیثیں بیان کی گئی ہیں۔حدیثوں کو جمع کرنا ضروری ہے نہ کہ کسی حدیث کو چھوڑنا۔
۳
؎اس طرح کہ انگلیاں پھیلا کرگھٹنوں کو مضبوطی سے پکڑلیتے اور ہاتھوں کو سیدھا رکھتے اور اس پر پیٹھ کا پورا بوجھ دے دیتے،دونوں ہاتھ شریف کمان کی طرح ٹیڑھے نہ کرتے۔
۴
؎یعنی نہ تو سجدے میں زمین پر کہنیاں لگاتے اور نہ بازو پسلیوں سے ملادیتے بلکہ ہاتھوں کو الگ رکھتے۔
۵
؎اس طرح کہ سجدے میں پاؤں کے پورے پنجے جما کر زمین پر رکھتے جس سے پاؤں کی ہر انگلی کا کنارہ قبلہ رخ ہوجاتا۔ خیال رہے کہ پاؤں کی ایک انگلی کا پیٹ زمین سے لگنا فرض ہے اور تین انگلیوں کا پیٹ لگنا واجب،دسوں کا لگنا سنت۔آج عام نمازی اس سے بے خبر ہیں یا تو دونوں پاؤں سجدہ میں اٹھائے رکھتے ہیں یا انگلیوں کی نوک لگاتے ہیں اس سے نماز قطعًا نہیں ہوتی۔
۶
؎یہ جملہ امام شافعی کی دلیل ہے وہ دوسریالتحیاتمیں یونہی بیٹھتے ہیں۔اس کا جواب ہم ابھی عرض کرچکے ہیں کہ یہ بیٹھنا بڑھاپے شریف یا کسی بیماری وغیرہ ضعف کی حالت میں تھا۔عام حالات میں ہرالتحیاتمیں بائیں پاؤں پر ہی بیٹھتے تھے۔ ہم نے اس طرح بیٹھنے کی اٹھارہ حدیثیں اپنی کتاب"جاء الحق"حصہ دوم میں جمع کی ہیں جن میں سے مسلم شریف کی روایت ابھی گزر گئی اس مسئلہ کا وہاں مطالعہ کرو۔حتی کہ بخاری،ابوداؤد،نسائی،مالک نے عبد الله ابن عبد الله ابن عمر سے روایت کی کہ وہ فرماتے ہیں سنت یہ ہے کہ دایاں پاؤں کھڑا کرو اور بائیں پاؤں پربیٹھو تو میں نے کہا آپ خود ایسا کیوں نہیں کرتے تو فرمایا میرے پاؤں میرا بوجھ نہیں اٹھاتے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 792