- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- حدیث نمبر 804
باب: نماز پڑھنے کا طریقہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 804
نماز کا بیان - جلد 2
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ فَصَلّٰى فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «أَعِدْ صَلَاتَكَ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ» . فَقَالَ: عَلِّمْنِي يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ أُصَلِّي قَالَ: «إِذَا تَوَجَّهَتَ إِلَى القِبْلَةِ فَكَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَمَا شَاءَ اللهُ أَنْ تَقْرَأَ فَإِذَا رَكَعَتْ فَاجْعَلْ رَاحَتَيْكَ عَلیٰ رُكْبَتَيْكَ وَمَكِّنْ رُكُوعَكَ وَامْدُدْ ظَهْرَكَ فَإِذَا رَفَعْتَ فَأَقِمْ صُلْبَكَ وَارْفَعْ رَأْسَكَ حَتّٰى تَرْجِعَ الْعِظَامُ إِلٰى مَفَاصِلِهَا فَإِذَا سَجَدْتَ فَمَكِّنِ السُّجُودَ فَإِذَا رَفَعْتَ فَاجْلِسْ عَلیٰ فَخِذِكَ الْيُسْرٰى ثُمَّ اصْنَعْ ذٰلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ وَسَجْدَةٍ حَتّٰى تَطْمَئِنَّ. هٰذَا لَفَظُ» الْمَصَابِيحِ . وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ مَعَ تَغْيِيرٍ يَسِيرٍ وَرَوَى التِّرْمِذِيْ وَالنَّسَائِيُّ مَعْنَاهُ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلتِّرْمِذِيْ قَالَ: «إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَتَوَضَّأْ كَمَا أَمَرَكَ اللهُ بِهٖ ثُمَّ تَشَهَّدْ فَأَقِمْ فَإِنْ كَانَ مَعَكَ قُرْآنٌ فَاقْرَأْ وَإِلَّا فَاحْمَدِ اللهَ وَكَبِّرْهُ وَهَلِّلْهُ ثمَّ اِرْكَعْ»
وعن رفاعة بن رافع قال: جاء رجل فصلى في المسجد ثم جاء فسلم علی النبي صلى الله عليه وسلم فقال النبي صلى الله عليه وسلم : «أعد صلاتك فإنك لم تصل» . فقال: علمني يا رسول الله كيف أصلي قال: «إذا توجهت إلى القبلة فكبر ثم اقرأ بأم القرآن وما شاء الله أن تقرأ فإذا ركعت فاجعل راحتيك علی ركبتيك ومكن ركوعك وامدد ظهرك فإذا رفعت فأقم صلبك وارفع رأسك حتى ترجع العظام إلى مفاصلها فإذا سجدت فمكن السجود فإذا رفعت فاجلس علی فخذك اليسرى ثم اصنع ذلك في كل ركعة وسجدة حتى تطمئن. هذا لفظ» المصابيح . ورواه أبو داود مع تغيير يسير وروى الترمذي والنسائي معناه. وفي رواية للترمذي قال: «إذا قمت إلى الصلاة فتوضأ كما أمرك الله به ثم تشهد فأقم فإن كان معك قرآن فاقرأ وإلا فاحمد الله وكبره وهلله ثم اركع»
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت رفاعہ ابن رافع سے ۱؎فرماتے ہیں ایک شخص آیا مسجد میں نماز پڑھی ۲؎پھر حاضر خدمت ہوا تو نبی صلی الله علیہ و سلم کو سلام عرض کیا تو نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا اپنی نماز لوٹاؤ۳؎تم نے نماز نہیں پڑھی وہ بولا یارسول الله مجھے سکھا دوکہ نماز کیسے پڑھوں فرمایا جب تم قبلہ کو منہ کرو تو تکبیر کہو ۴؎پھر سورۂ فاتحہ اور جو پڑھن الله چاہے وہ پڑھ لو۵؎پھر جب رکوع کرو تو اپنی ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھو اور اپنے رکوع کو مضبوطی سے کرو ۶؎اور اپنی پشت درازکرو جب اپنے سر کو اٹھاؤ تو اپنی پیٹھ سیدھی کرو حتی کہ ہڈیاں اپنے جوڑوں تک لوٹ جائیں ۷؎پھر جب سجدہ کرو تو سجدہ مضبوطی سے کرو۸؎جب اٹھو تو اپنی بائیں ران پر بیٹھو ۹؎پھر رکوع اور سجدہ میں یونہی کرو حتی کہ مطمئن ہوجاؤ یہ مصابیح کے لفظ ہیں اور ابو داؤد نے تھوڑے فرق سے روایت کیا اور ترمذی و نسائی نے اس کے معنی روایت کیے۔ترمذی کی روایت میں ہے کہ جب تم نماز کے لیے اٹھو تو یونہی وضو کرو جیسے تمہیں الله نے اس کا حکم دیا پھر کلمۂ شہادت پڑھو ۱۰؎پھرتکبیر کہو پھر اگر تمہیں کچھ قرآن یاد ہو تو اسے پڑھ لوورنہ الله کی حمداس کی تکبیر اس کی تہلیل کرو ۱۱؎پھر رکوع کرو۔
شرح حدیث
۱∞؎آپ انصاری خزرجی ہیں،آپ کی کنیت ابو معاذ ہے،خود بدری ہیں اور آپ کے والد ان نقیبوں میں سے تھے جو ہجرت سے پہلے مدینہ منورہ میں مبلغ مقرر ہوئے۔مالک ابن رافع اور خلاد ابن رافع کے بھائی ہیں،قبیلہ خزرج میں سب سے پہلے آپ اسلام لائے،آپ جنگ جمل وصفین میں حضرت علی مرتضیٰ کے ساتھ تھے۔(اشعہ)
۲؎یہ آنے والے حضرت رفاعہ کے بھائی خلاد ابن رافع تھے،انہوں نے ناقص یا فاسد نماز پڑھی تھی ان کا واقعہ ابھی تھوڑے فرق کے ساتھ گزر گیا۔
۳؎کیونکہ بالکل نہیں پڑھی یا کامل نہیں پڑھی۔خیال رہے کہ فرض رہ جانے سے نماز قطعًا نہیں ہوتی اس کا لوٹانا فرض ہے اور واجب رہ جانے سے نمازسخت ناقص ہوتی ہے اس کا لوٹانا واجب ہے،یہ فرمان شریف دونوں معنی کا احتمال رکھتا ہے۔
۴؎اس سےمعلوم ہوا کہ نماز میں قبلہ رو ہونا شرط ہے اورتکبیرتحریمہ رکن،اگر کوئی تکبیر پہلے کہہ دے اور قبلہ رخ بعد میں تو نماز نہیں ہوگی۔
۵؎یعنی سورۃ فاتحہ کے سوا قرآن کی کوئی اور سورت بھی پڑھ لو،یہ حدیث حنفیوں کی قوی دلیل ہے کہ نماز میں سورۃ فاتحہ بھی واجب ہے اور اس کے علاوہ کوئی اور سورت یا ایک بڑی آیت یا تین چھوٹی آیتیں بھی واجب۔امام شافعی رحمۃ الله علیہ کے ہاں سورۃ فاتحہ فرض اور دوسری سورت ملانا سنت۔یہ حدیث ان کے خلاف ہے کیونکہ ان دونوں چیزوں کے لیے ایک"اِقْرَاۡء" ارشاد ہوا۔خیال رہے کہ اور سورت کا پڑھنا واجب مگر اس کے مقرر کرنے میں کہ کون سی پڑھے نمازی کو اختیار ہے،سورۃ فاتحہ میں نماز ی کو کوئی اختیار نہیں اس لیےمَاشَاءَاللهُفرمایا گیا۔شوافع اسمَاشَاءَاللهُسے سورۃ کا سنت ہونا ثابت نہیں کرسکتے،حنفیوں نے "اِقْرَاۡء"کا بھی لحاظ رکھا ہے اورمَاشَاءَاللهُکا بھی،مطلقًا سورت کو واجب جانا اور تعین میں اختیار دیا۔
۶؎یعنی اطمینان کے ساتھ رکوع کرو۔خیال رہے کہ رکوع میں ہتھیلیاں گھٹنوں پر رکھنا سنت ہے اور اطمینان واجب۔
۷؎یعنی پورے کھڑے ہوجاؤ،چونکہ صرف کام بتائے ہیں اس لیے پڑھنے کے کلمات ارشاد نہ فرمائے۔
۸؎یعنی اطمینان سے ادا کرو کہ تین تسبیح بقدر ٹھہرو،سجدے میں ہاتھوں کا ز مین پر لگناہمارے ہاں سنت ہے،شوافع کے ہاں فرض۔اس عبارت سے ان کا مذہب ثابت نہیں ہوسکتا کیونکہ تسکین سے مراد اطمینان ہے۔
۹؎یعنی نماز میں جب بیٹھو تو بائیں ران پر اس طرح کہ داہنا قدم کھڑا ہو۔معلوم ہوا ہے کہ نماز کے دونوں قعدوں کی نشست یکساں ہے یعنی بائیں ران پر بیٹھنا یہ ہی حنفی کہتے ہیں۔
۱۰؎یعنی وضو کے بعد کلمہ پڑھنا سنت ہے،بعض روایات میں آتا ہے کہ "اِنَّا اَنْزَلْنَا"پڑھے،بہتر ہے کہ دونوں پڑھ لے۔
۱۱؎یعنی اگر قرآن شریف بالکل یاد نہ ہو تو اس کے بجائے یہ پڑھ لو "سُبْحَانَ اللّٰهِ وَالْحَمْدُلِلّٰهِ وَلَا اِلٰہَ اِلَّااللهُ وَالله اَکْبَرُ" ۔فقہاء فرماتے ہیں کہ وہ نو مسلم جو ابھی قرآن یاد نہ کرسکا ہو وہ نماز میں بجائے قرآن یہی پڑھے۔ہمارے ہاں صرف ایک دفعہ اور امام شافعی رحمۃ الله علیہ کے ہاں سات دفعہ۔غالبًایہ صاحب اس وقت نو مسلم تھے اس لیے یہ اجازت دی گئی ورنہ تلاوت نماز میں فرض ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 804