Main Icon

باب: نماز پڑھنے کا طریقہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 800

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «أَفْضَلُ الصَّلَاةِ طُولُ الْقُنُوتِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «أفضل الصلاة طول القنوت» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی الله علیہ و سلم نے بہترین نماز لمبا قیام ہے ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎قنوت کے چند معنی ہیں:اطاعت،خاموشی،دعا،نماز کا قیام،یہاں آخری معنی(قیام)مراد ہیں یعنی بہترین نماز وہ ہے جس میں قیام دراز ہو۔خیال رہے کہ بعض علماء دراز قیام کو بہتر کہتے ہیں کیونکہ اس میں مشقت زیادہ ہے اسی میں تلاوت قرآن ہوتی ہے،نبی صلی الله علیہ و سلم تہجد میں اتنا دراز قیام فرماتے تھے کہ پاؤں شریف پر ورم آجاتا تھا۔ بعض کے نزدیک زیادہ سجدے افضل کیونکہ حضور صلی الله علیہ و سلم نے حضرت ربیعہ سے فرمایا کہ اگر جنت میں میرے ساتھ رہنا چاہتے ہو تو زیادہ سجدے کرو،نیز فرمایا کہ انسان سجدے میں رب سے زیادہ قریب ہوتا ہے، نیز رب فرماتاہے:"وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْبعض کے نزدیک تہجد میں دراز قیام افضل اور دن میں زیادہ سجدے افضل ، رب فرماتا ہے:"قُمِ الَّیۡلَ اِلَّا قَلِیۡلًا"۔بعض نے فرمایا کہ بعض اعتبار سے لمبا قیام افضل ہے اور دوسرے اعتبار سے زیادہ سجدے افضل، ہمارے امام صاحب پہلے قول کو ترجیح دیتے ہیں ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 800