Main Icon

باب: نماز پڑھنے کا طریقہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 793

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهٗ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا كَذٰلِكَ وَقَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ وَكَانَ لَايَفْعَلُ ذٰلِكَ فِي السُّجُودِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن ابن عمر: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يرفع يديه حذو منكبيه إذا افتتح الصلاة وإذا كبر للركوع وإذا رفع رأسه من الركوع رفعهما كذلك وقال: سمع الله لمن حمده ربنا لك الحمد وكان لايفعل ذلك في السجود(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے مقابل اٹھاتے ۱؎اور جب رکوع کی تکبیر کہتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی یونہی ہاتھ اٹھاتے اور کہتے"سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ"اور سجدے میں یہ نہ کرتے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس کی شرح ابھی گزر چکی کہ گٹے کندھوں تک رہتے اور انگوٹھے کانوں تک۔
۲
؎اس حدیث سے یہ تو معلوم ہوا کہ حضور صلی الله علیہ و سلم نے رکوع میں جاتے آتے رفع یدین کیا مگر یہ ذکر نہیں کیا کہ آخر وقت تک کیا۔حق یہ ہے کہ رفع یدین منسوخ ہے۔چنانچہ عینی شرح بخاری میں ہے کہ سیدنا عبد الله ابن زبیر نے ایک شخص کو رکوع میں جاتے آتے رفع یدین کرتے دیکھا تو فرمایا ایسا نہ کیا کرو یہ وہ کام ہے جسے حضور صلی الله علیہ و سلم نے اولًاکیا تھا پھر چھوڑ دیا ،نیز سیدنا ابن مسعود،عمر ابن خطاب،علی مرتضٰی،براء ابن عازب،حضرت علقمہ وغیرہم بہت صحابہ سے کہ وہ رفع یدین نہ کرتے تھے اور کرنے والوں کو منع کرتے تھے، نیز ابن ابی شیبہ اور طحاوی نے حضرت مجاہد سے روایت کی کہ میں نے حضرت ابن عمر کے پیچھے نماز پڑھی آپ نے سوا تکبیر اولیٰ کے کسی وقت ہاتھ نہ اٹھائے۔معلوم ہوا کہ سیدنا ابن عمر کے نزدیک بھی رفع یدین منسوخ ہے،نیز رسالہ آفتاب محمدی میں ہےکہ حضرت ابن عمر کی حدیث چند روایتوں سے منقول ہے جس میں سے ایک روایت میں یونس ہے جو سخت ضعیف ہے، دوسری اسناد میں ابوقلابہ ہے جو خارجی المذہب تھا(دیکھو تہذیب)،تیسری اسناد میں عبید الله ہےیہ پکا را فضی تھا،چوتھی اسناد میں شعیب ابن اسحاق ہے جو مرجیہ مذہب کا تھا۔غرض کہ رفع یدین کی احادیث کی اکثر اسنادوں میں بدمذہب خصوصًا روافض بہت شامل ہیں کیونکہ یہ ان کا عمل ہے۔ہوسکتا ہے کہ روافض کے تقیہ کی وجہ سے امام بخاری کو بھی پتہ نہ لگاہو،لہذامذہب حنفی نہایت قوی ہے کہ نمازوں میں سوا تکبیرتحریمہ کے اور کہیں رفع یدین نہ کیا جائے۔اس کی پوری تحقیق ہماری کتاب"جاءالحق" حصہ دوم میں دیکھو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 793