Main Icon

باب: نماز پڑھنے کا طریقہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 809

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قَالَ لَنَا ابْنُ مَسْعُودٍ: أَلا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلّٰى وَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً مَعَ تَكْبِيرَةِ الِافْتِتَاحِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ. وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: لَيْسَ هُوَ بِصَحِيح ٍ عَلیٰ هٰذَا الْمَعْنى

وعن علقمة قال: قال لنا ابن مسعود: ألا أصلي بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى ولم يرفع يديه إلا مرة واحدة مع تكبيرة الافتتاح. رواه الترمذي وأبو داود والنسائي. وقال أبو داود: ليس هو بصحيح علی هذا المعنى

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علقمہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ہم سے حضرت ابن مسعود نے فرمایا کیا میں تمہارے سامنے حضور کی نماز نہ پڑھوں تو نماز پڑھی تو اپنے ہاتھ صرف ایک بار ہی یعنی شروع کی تکبیر کے ساتھ اٹھائے ۲؎(ترمذی،نسائی ابوداؤد)ابوداؤدکہتے ہیں کہ یہ حدیث اس معنی پرصحیح نہیں ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎علقمہ چند ہیں۔یہاں علقمہ ابن قیس ابن مالک مراد ہیں جو مشہور تابعی ہیں اور حضرت ابن مسعود کے ساتھیوں میں سے آپ کی ملاقات خلفاء راشدین سے بھی ہے۔
۲
؎یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے کہ رکوع میں جاتے آتے رفع یدین نہیں۔حضرت ابن مسعود بڑے فقیہ صحابی اور آخر دم تک حضور صلی الله علیہ و سلم کے سفر اور حضر کے ساتھی ہیں،حضور کی نماز پر جیسے آپ مطلع ہوسکتے ہیں ایسے دوسرے وہ صحابہ جو کبھی کبھی حاضر بارگاہ ہوتے تھے مطلع نہیں ہوسکتے تھے،دارقطنی اور ابن عدی نے انہی حضرت ابن مسعود سے روایت کی،فرماتے ہیں کہ حضور صلی الله علیہ و سلم کے پیچھے بھی نمازیں پڑھی ہیں اور حضرت صدیق اکبر و فاروق کی اقتداء میں بھی جن میں سے کوئی بزرگ سوائے تکبیرتحریمہ کے اور کسی وقت نماز میں ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے،نیز بہت صحابہ کرام سے اسی طرح روایتیں ہیں۔ہم نے رفع یدین نہ کرنے کی پچیس حدیثیں اپنی کتاب "جاءالحق"حصہ دوم میں جمع کی ہیں۔خیال رہے کہ حضرت ابن مسعود صحابہ اور تابعین کے مجمع میں یہ نماز پڑھ کر دکھاتے اور کوئی آپ پر اعتراض نہیں کرتا۔معلوم ہوا کہ وہ تمام حضرات رفع یدین نہ کرنے پرمتفق تھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 809