Main Icon

باب: نماز پڑھنے کا طریقہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 807

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ شَيْخٍ بِمَكَّةَ فَكَبَّرَ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً فَقُلْتُ لِاِبْن عَبَّاسٍ : إِنَّهٗ أَحْمَقُ فَقَالَ: ثَكَلَتْكَ أُمُّكَ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

وعن عكرمة قال: صليت خلف شيخ بمكة فكبر ثنتين وعشرين تكبيرة فقلت لابن عباس : إنه أحمق فقال: ثكلتك أمك سنة أبي القاسم صلى الله عليه وسلم . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عکرمہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے ایک بزرگ کے پیچھے مکہ مکرمہ میں نماز پڑھی تو انہوں نے بائیس تکبیریں کہیں ۱؎میں نے حضرت ابن عباس سے کہا کہ یہ بیوقوف ہیں تو فرمایا تمہیں تمہاری ماں روئے یہ نبی صلی الله علیہ و سلم کی سنت ہے ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎نماز چار رکعت تھی اس میں تکبیرتحریمہ اور پہلےالتحیاتسے اٹھتے وقت کی تکبیریں بھی شامل ہیں،یہ بزرگ ابوہریرہ تھے اور عکرمہ حضرت عبد الله ابن عباس کے غلام ہیں ان کا ذکر پہلے آچکا ہے۔
۲
؎یعنی چار رکعت والی نماز میں بائیس تکبیریں کہنا بھی سنت ہے اور امام کو ہرتکبیر اونچی آواز سے کہنا بھی سنت ہے،تم اپنی بیوقوفی سے سنت پرعمل کرنے والے کو بیوقوف بتا رہے ہو۔شایدحضرت عکرمہ نے چیخ کر تکبیر کہنے کو غلط سمجھا ہوگا مگرتعجب ہے کہ آپ ہمیشہ باجماعت نماز پڑھتے تھے پھر ان پر یہ مسئلہ کیسے مخفی رہا۔یہ بات تو ہر نمازی جانتا ہے کہ چار رکعت میں تکبیریں بائیس ہوتی ہیں اور امام ہرتکبیر بآواز بلند کہتا ہے۔خیال رہے کہ حضرت عکرمہ نے لڑکپن کے جوش میں یہ الفاظ بول دیئے،ورنہ کسی کو پیٹھ پیچھے احمق کہنا غیبت ہے،صحابہ کی شان تو بہت بلند ہے اسی لیے حضرت ابن عباس رضی الله تعالٰی عنہ نے آپ کو سخت تنبیہ کی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 807