Main Icon

باب: نماز پڑھنے کا طریقہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 801

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيّ قَالَ فِي عَشَرَةِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا فَاعْرِضْ. قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتّٰى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ يُكَبِّرُ ثُمَّ يَقْرَأُ ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتّٰى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ يَرْكَعُ وَيَضَعُ رَاحَتَيْهِ عَلیٰ رُكْبَتَيْهِ ثُمَّ يَعْتَدِلُ فَلَا يُصْبِي رَأْسَهٗ وَلَا يُقَنِّعُ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهٗ فَيَقُولُ: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتّٰى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ مُعْتَدِلًا ثُمَّ يَقُولُ: «اللهُ أَكْبَرُ» ثُمَّ يَهْوِي إِلَى الأَرْضِ سَاجِدًا فَيُجَافِي يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ وَيَفْتَخُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهٗ وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرٰى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا ثُمَّ يَعْتَدِلُ حَتّٰى يَرْجِعَ كُلُّ عَظمٍ إِلٰى مَوْضِعِهٖ مُعْتَدِلًا ثُمَّ يَسْجُدُ ثُمَّ يَقُولُ: «اللهُ أَكْبَرُ» وَيَرْفَعُ وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرٰى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا ثُمَّ يَعْتَدِلُ حَتّٰى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلٰى مَوْضِعِهٖ ثُمَّ يَنْهَضُ ثُمَّ يَصْنَعُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذٰلِكَ ثُمَّ إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتّٰى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا كَبَّرَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ ثُمَّ يَصْنَعُ ذٰلِكَ فِي بَقِيَّةِ صَلَاتِهٖ حَتّٰى إِذَا كَانَتِ السَّجْدَةُ الَّتِي فِيهَا التَّسْلِيمُ أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرٰى وَقَعَدَ مُتَوَرِّكًا عَلیٰ شِقِّهِ الْأَيْسَرِ ثُمَّ سَلَّمَ. قَالُوا: صَدَقْتَ هٰكَذَا كَانَ يُصَلِّي. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ والدَارمِيْ وَرَوَى التِّرْمِذِيْ وَابْنُ مَاجَهْ مَعْنَاهُ وَقَالَ التِّرْمِذِيْ: هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.وَفِي رِوَايَةٍ لِأَبِي دَاوُدَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي حُمَيْدٍ: ثُمَّ رَكَعَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلیٰ رُكْبَتَيْهِ كَأَنَّهٗ قَابِضٌ عَلَيْهِمَا وَوَتَّرَ يَدَيْهِ فَنَحَّاهُمَا عَنْ جَنْبَيْهِ وَقَالَ: ثُمَّ سَجَدَ فَأَمْكَنَ أَنْفَهٗ وَجَبْهَتَهُ الْأَرْضَ وَنَحّٰى يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ وَوَضَعَ كَفَّيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَفَرَّجَ بَيْنَ فَخِذَيْهِ غَيْرَ حَامِلٍ بَطْنَهٗ عَلیٰ شَيْءٍ مِنْ فَخِذَيْهِ حَتّٰى فَرَغَ ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرٰى وَأَقْبَلَ بِصَدْرِ الْيُمْنٰى عَلیٰ قِبْلَتِهٖ وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنٰى عَلیٰ رُكْبَتِهِ الْيُمْنٰى وَكَفَّهُ الْيُسْرٰى عَلیٰ رُكْبَتِهِ الْيُسْرٰى وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهٖ يَعْنِي السَّبَّابَةَ. وَفِي أُخْرٰى لَهٗ : وَإِذَا قَعَدَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَعَدَ عَلیٰ بَطْنِ قَدَمِهِ الْيُسْرٰى وَنَصَبَ الْيُمْنٰى وَإِذَا كَانَ فِي الرَّابِعَةِ أَفْضٰى بِوَرِكِهِ الْيُسْرَى الَى الأَرْضِ وَأَخْرَجَ قَدَمَيْهِ مِنْ نَاحِيَةٍ وَاحِدَةٍ

عن أبي حميد الساعدي قال في عشرة من أصحاب النبی صلى الله عليه وسلم : أنا أعلمكم بصلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم قالوا فاعرض. قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا قام إلى الصلاة يرفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه ثم يكبر ثم يقرأ ثم يكبر ويرفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه ثم يركع ويضع راحتيه علی ركبتيه ثم يعتدل فلا يصبي رأسه ولا يقنع ثم يرفع رأسه فيقول: «سمع الله لمن حمده» ثم يرفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه معتدلا ثم يقول: «الله أكبر» ثم يهوي إلى الأرض ساجدا فيجافي يديه عن جنبيه ويفتخ أصابع رجليه ثم يرفع رأسه ويثني رجله اليسرى فيقعد عليها ثم يعتدل حتى يرجع كل عظم إلى موضعه معتدلا ثم يسجد ثم يقول: «الله أكبر» ويرفع ويثني رجله اليسرى فيقعد عليها ثم يعتدل حتى يرجع كل عظم إلى موضعه ثم ينهض ثم يصنع في الركعة الثانية مثل ذلك ثم إذا قام من الركعتين كبر ورفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه كما كبر عند افتتاح الصلاة ثم يصنع ذلك في بقية صلاته حتى إذا كانت السجدة التي فيها التسليم أخر رجله اليسرى وقعد متوركا علی شقه الأيسر ثم سلم. قالوا: صدقت هكذا كان يصلي. رواه أبو داود والدارمي وروى الترمذي وابن ماجه معناه وقال الترمذي: هذا حديث حسن صحيح.وفي رواية لأبي داود من حديث أبي حميد: ثم ركع فوضع يديه علی ركبتيه كأنه قابض عليهما ووتر يديه فنحاهما عن جنبيه وقال: ثم سجد فأمكن أنفه وجبهته الأرض ونحى يديه عن جنبيه ووضع كفيه حذو منكبيه وفرج بين فخذيه غير حامل بطنه علی شيء من فخذيه حتى فرغ ثم جلس فافترش رجله اليسرى وأقبل بصدر اليمنى علی قبلته ووضع كفه اليمنى علی ركبته اليمنى وكفه اليسرى علی ركبته اليسرى وأشار بأصبعه يعني السبابة. وفي أخرى له : وإذا قعد في الركعتين قعد علی بطن قدمه اليسرى ونصب اليمنى وإذا كان في الرابعة أفضى بوركه اليسرى الى الأرض وأخرج قدميه من ناحية واحدة

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوحمید ساعدی سے آپ نے حضور کے دس صحابہ کی جماعت میں فرمایا کہ میں رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی نماز کو تم سے زیادہ جانتا ہوں ۱؎وہ بولے پیش کرو فرمایا کہ نبی کریم صلی الله علیہ و سلم نماز کو کھڑے ہوتے تو اپنے ہاتھ اٹھاتے حتی کہ انہیں کندھوں کے مقابل کردیتے ۲؎پھر تکبیرکہتے پھر قرأت کرتے پھرتکبیر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے حتی کہ انہیں کندھوں کے مقابل کردیتےپھر رکوع کرتے اور اپنی ہتھیلیاں گھٹنوں پر رکھ دیتے پھر کمر سیدھی کرتے تو نہ سر اٹھاتے نہ جھکاتے پھر اپنا سر اٹھاتے تو کہتے"سمع الله لمن حمدہ" ۳؎پھر اپنے ہاتھ اٹھاتے حتی کہ انہیں اپنے کندھوں کے مقابل کردیتے سیدھے ہوتے ہوئے پھر کہتے اللهاکبرپھر سجدہ کرتے ہوئے زمین کی طرف جھکتے ۴؎تو اپنے ہاتھ پہلوؤں سے دور رکھتے اور پاؤں کی انگلیاں موڑ دیتے ۵؎پھر سر اٹھاتے اور اپنا الٹا پاؤں بچھاتے پھر اس پر بیٹھ جاتے پھر سیدھے ہوتے حتی کہ ہر ہڈی سیدھے ہونے کی حالت میں اپنی جگہ لوٹ جاتی پھرسجدہ کرتے تو اللهاکبرکہتے اور اٹھتے اور اپنا بایاں پاؤں موڑتے اس پر بیٹھ جاتے پھر سیدھے ہوتے حتی کہ ہڈی اپنی جگہ لوٹ جاتی ۶؎پھر کھڑے ہوتے تو دوسری رکعت میں یونہی کرتے پھر جب دو رکعتوں سے اٹھتے تو تکبیر کہتے اور ہا تھ اٹھاتے حتی کہ انہیں کندھوں کے مقابل کردیتے جیسے کہ نماز شروع کرتے وقت تکبیر کہی تھی پھر اپنی باقی نماز میں یونہی کرتے حتی کہ جب وہ سجدہ ہوتا جس میں سلام ہے تو اپنا بایاں پاؤں باہر نکال دیتے اور بائیں کولہے پر بیٹھتے پھر سلام پھیر دیتے وہ بولے تم نے سچ کہا ایسے ہی نماز پڑھتے تھے۔(ابوداؤد،دارمی) ۷؎اور ترمذی اور ابن ماجہ نے اس کی معنی کی روایت کی ترمذی کہتے ہیں یہ حسن صحیح ہے ۸؎اور ابوداؤد کی ابو حمید والی حدیث کی دوسری روایت میں ہے ۹؎کہ پھر رکوع کرتے تو اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھتے گویا آپ انہیں پکڑے ہوئے ہیں اور اپنے ہاتھوں کو کمان کے چلّے کی طرح ٹیڑھا کرتے اور انہیں پہلوؤں سے دور رکھتے ۱۰؎فرمایا کہ سجدہ کرتے تو اپنی ناک اور پیشانی زمین پر رکھتے اور اپنے ہاتھ پہلوؤں سے دور رکھتے اور اپنی ہتھیلیاں کندھوں کے مقابل رکھتے ۱۱؎اپنی رانوں کے درمیان کشادگی کرتے کہ اپنا پیٹ رانوں سے کسی حصے سے نہ لگاتے حتی کہ فارغ ہوجاتے پھر بیٹھتے تو اپنا بایاں بچھاتے اور اپنے دایاں پاؤں کا سینہ قبلہ کی طرف کردیتے ۱۲؎اور اپنا دایاں ہاتھ دائیں گھٹنے پر اور بایاں ہاتھ بائیں گھٹنے پر رکھتے اور کلمے کی انگلی سے اشارہ کرتے ۱۳؎اور ابوداؤ دکی دوسری روایت میں ہے کہ جب دو رکعتوں پر بیٹھتے توبائیں پاؤں پیٹ پر بیٹھتے اور دائیں کو کھڑا کردیتے اور جب چوتھی میں ہوتے تو اپنے سرین زمین سے لگاتے اور اپنے دونوں پاؤں ایک طرف نکال دیتے ۱۴؎

شرح حدیث

۱∞؎غالبًا آپ نے یہ گفتگو ان صحابہ سے کی ہوگی جو کبھی ایک آدھ بار بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوئے ہوں نہ کہ صدیق اکبر اور فاروق اعظم وغیرہ،ان حضرات سے جنہیں ہر آن اس شہنشاہ دو جہاں کی خدمت میں حاضری کا موقعہ نصیب تھا حضرت ابوحمید ان سے زیادہ کیسے جان سکتے ہیں،بلکہ ابوداؤد کی ایک روایت میں تو یہ بھی ہے کہ ان حضرات نے بھی ابوحمید کے اس قول پرتعجب کیا۔
۲
؎اس طرح کہ کلائیاں کندھوں کے سامنے رہتیں اور انگوٹھے کانوں کے مقابل جیسے کہ پہلے ذکر کیا گیا اور بعینہ یہی صورت اگلی روایت میں آرہی ہے۔
۳
؎یعنی "رَبَّنَا لَكَ الْحَمْد"نہ کہتےکیونکہ آپ امام ہوتے تھے۔یہاں امامت ہی کی حالت بیان ہورہی ہے لہذا یہ حدیث پچھلی حدیث کے خلاف نہیں کیونکہ وہاں تنہا نماز کا ذکر تھا۔
۴
؎اس طرح کہ جھکنے کی حالت میں اللهاکبراس طرح کہتے کہ الله کاالفبحالت قیام ادا ہوتا اور اکبر کیرسجدہ میں پہنچ کر،اس طرح نہیں کہ پہلے اللهاکبرکہہ لیں پھر سجدے میں جائیں جیسا کہثُمَّسے دھوکا پڑھتا ہے کیونکہ یہثُمَّترتیب ذکری کے لیے ہے نہ کہ ترتیب واقعی کے لیئے،رب فرماتا ہے:"ثُمَّ قَسَتْ قُلُوۡبُکُمۡ"اور فرماتا ہے:"ثُمَّ اَنۡتُمْ تَمْتَرُوۡنَ
۵
؎اس طرح کہ دسوں انگلیوں کا کنارہ قبلہ کی طرف ہوجاتا اور پنجوں کے پیٹ زمین پر لگ جاتے،یہی چاہیےیَفْتَخُفَتْخٌسے ہے،بمعنی موڑنا اورٹیڑہ کرنا اس لیے کنگن کوفتخکہتے ہیں۔
۶
؎معلوم ہوا کہ رکوع کے بعد پورا کھڑا ہوجانا اور دو سجدوں کے درمیان پورا بیٹھنا ضروری ہے،بعض لوگ اس میں سستی کرتے ہیں۔
۷
؎یہ حدیث رفع یدین کرنے والوں کی انتہائی دلیل ہے جو ان کے بچے بچے کو یاد ہوتی ہے۔اس کے متعلق چند معروضات ہیں:ایک یہ کہ یہ حدیث اسناد کے لحاظ سے ضعیف،مدلس،بلکہ قریبًا موضوع ہے اس لیے کہ اس میں ایک راوی عبدالحمید ابن جعفربھی جو سخت مجروح اور ضعیف ہے۔(طحاوی)دوسرے یہ کہ اس کا ایک راوی محمد ابن عمرو ابن عطا ہے جس کی ملاقات ابوحمید ساعدی سے نہیں مگر وہ کہیں کہتا ہے کہ میں نے ابو حمید سے سنا اورکہیں کہتا ہے کہ ابوحمید سے روایت ہے لہذا یہ جھوٹا ہے درمیان میں کوئی راوی چھوڑ گیا ہے وہ مجہول ہے۔تیسرے یہ کہ انہی ابوحمید کی روایت ابھی بخاری کی گزر گئی مگر وہاں رفع یدین کا بالکل ذکر نہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ رفع یدین والی عبارت الحاقی ہے ورنہ امام بخاری ضرور لیتے۔چوتھے یہ کہ حضرت ابوحمید نے بھی یہ نہ فرمایا کہ حضور صلی الله علیہ و سلم کا یہ عمل آخر تک رہا بلکہ اس فعل منسوخ کا ذکر کیا جسے حضور صلی الله علیہ و سلم پہلے کرتے تھے بعد میں چھوڑ دیا۔پانچویں یہ کہ یہ حدیث قیاس کے بھی خلاف ہے کیونکہ رکوع کی تکبیر سجدے کی تکبیر کے مشابہ ہے نہ کہ تکبیر تحریمہ کے کیونکہ تکبیرتحریمہ فرض ہے یہ سنت،وہ نماز میں ایک بار یہ بار بار،تو چاہیے کہ جیسے سجدے کی تکبیر میں رفع یدین نہیں ہوتا ایسے ہی اس میں بھی نہ ہو۔چھٹے یہ کہ فقہاءو صحابہ جیسے حضرت ابن مسعود،حضرت علقمہ،حضرت عبد الله ابن عباس،حضرت عبد الله ا بن زبیر،براء ابن عازب وغیرہم اس کے خلاف روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی الله علیہ و سلم نے صرف تکبیر تحریمہ پر ہاتھ اٹھائے پھر نہ اٹھائے۔وہ حضرات نماز میں بالکل حضور صلی الله علیہ و سلم کے پیچھے رہتے تھے اس لیے ان کی روایت اس روایت سے قوی تر ہے۔اس کی بہت تحقیق ہماری کتاب"جاء الحق"حصہ دوم میں دیکھو۔
۸
؎یعنی ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح نہیں کہا جو یہاں مذکور ہوئی،اس میں تویہ حدیث ہے ہی نہیں بلکہ اس کے ہم معنی کوئی اور حدیث ہے جسے حسن صحیح کہا ہے۔یہ حدیث تو بے حد ضعیف اور ناقابل عمل ہے۔چنانچہ فقیر نے ترمذی باب رفع یدین دیکھا وہاں ابن عمر کی روایت نقل کی۔حدیث ابوحمید کوفِی الْبَابِکہہ کر بیان فرمایا اور پھر آخر میں فرمایا ابو عیسیٰ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے،ناظرین اس عبارت سے دھوکا نہ کھائیں اگر ترمذی کے نزدیک یہ حدیث ابوحمید صحیح ہوتی تو ا س کا ذکر فرماتے باقی روایتوں کی طرففِی الْبَابِکہ کر اشارہ فرماتے جیسا کہ ان کا قاعدہ ہے۔معلوم ہوا کہ ان کے نزدیک بھی یہ حدیث بالکل ضعیف ہے۔
۹
؎ابوداؤد میں یہ حدیث ابوحمید بہت روایتوں سے مروی ہے مگر سب میں عبدالحمید ابن جعفر یا محمد ابن عمرو عطا ہیں،یہ دونوں ضعیف ہیں۔امام ماروی نے جوہرنقیع میں فرمایا کہ عبدالحمید منکر حدیث ہے لہذا یہ ساری اسنادیں مجہول،مضطرب،مدلس قریبًا موضوع ہیں۔دیکھو حاشیہ ابوداؤد یہی مقام اور ہماری کتاب "جاءالحق"حصہ دوم۔
۱۰
؎یعنی بحالت رکوع ہیئات کمان کی سی ہوتی کہ ہاتھ سیدھے قدرے خم دار اور پیٹھ ٹیڑھی۔ہاتھ کا یہ خم اس لیے ہوتا تھا کہ پہلوؤں سے دور ہیں۔۱۱؎یہ حدیث روایت مسلم کے خلاف ہے جو ابھی گزر چکی۔جس میں تھا کہ آپ سجدہ دو ہتھیلیوں کے بیچ میں کرتے،چونکہ یہ حدیث ہی ضعیف اور ناقابل عمل ہے اس لیے مسلم کی وہ حدیث قابل عمل ہوگی۔
۱۲
؎یعنی دوسریالتحیاتمیں نہ تو بائیں پاؤں پر بیٹھتے نہ داہنا پاؤں کھڑا کرتے بلکہ دونوں پاؤں ایسے بچھاتے کہ داہنے پاؤں کا سینہ قبلہ کی طرف ہوجاتا،لہذا یہ حدیث شوافع کے بھی خلاف ہےکیونکہ وہ داہنا پاؤں کھڑا کرتے ہیں۔
۱۳
؎اس طرح کہالتحیاتمیں داہنے ہاتھ کی کلمے کی انگلیلَا اِلٰہَپر اٹھاتے اوراِلَّااللهُپر گراتے جیسا کہ آج کل عام عمل ہے۔
۱۴
؎یعنی دونوں پاؤں داہنی جانب بچھادیتے اور زمین پر بیٹھتے،ہم ابھی عرض کرچکے ہیں کہ یہ حدیث نہ ہمارے موافق ہے نہ شوافع کےکیونکہ وہ حضرات اپنا داہنا پاؤں کھڑا کرتے ہیں جیسا کہ مسلم کی روایت میں گزر چکا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 801