- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- حدیث نمبر 1043
باب : ممانعت کے اوقات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1043
نماز کا بیان - جلد 2
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ كُرَيْبٍ: أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ وَعبدَ الرَّحْمَنَ بْنَ الأَزْهَرِ أَرسَلُوهُ إِلٰى عَائِشَةَ فَقَالُوا اقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامُ وَسَلْهَا عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ بَعدَ العَصرِ قال: فَدَخَلْتُ عَلیٰ عَائِشَةَ فَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُونِي فَقَالَتْ سَلْ أُمَّ سَلَمَةَ فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ فَرَدُّونِي إِلٰى أُمِ سَلمَة َفَقَالَت أمُّ سَلمَة رَضِي اللهُ عَنْهَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهٰى عَنْهُمَا ثُمَّ رَأَيْتُهٗ يُصَلِّيهِمَا ثُمَّ دَخَلَ فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةَ فَقُلْتُ: قُولِي لَهٗ تَقُولُ أُمُّ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللهِ سَمِعْتُكَ تَنْهٰى عَنْ هَاتين وَأَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا؟ قَالَ: «يَا ابْنَةَ أَبِي أُمَيَّةَ سَأَلْتِ عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَإِنَّهٗ أَتَانِي نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ فَشَغَلُونِي عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعدَ الظُّهْرِ فهُمَا هَاتَانِ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
وعن كريب: أن ابن عباس والمسور بن مخرمة وعبد الرحمن بن الأزهر أرسلوه إلى عائشة فقالوا اقرأ عليها السلام وسلها عن الركعتين بعد العصر قال: فدخلت علی عائشة فبلغتها ما أرسلوني فقالت سل أم سلمة فخرجت إليهم فردوني إلى أم سلمة فقالت أم سلمة رضي الله عنها سمعت النبي صلى الله عليه وسلم ينهى عنهما ثم رأيته يصليهما ثم دخل فأرسلت إليه الجارية فقلت: قولي له تقول أم سلمة يا رسول الله سمعتك تنهى عن هاتين وأراك تصليهما؟ قال: «يا ابنة أبي أمية سألت عن الركعتين بعد العصر وإنه أتاني ناس من عبد القيس فشغلوني عن الركعتين اللتين بعد الظهر فهما هاتان» (متفق عليه)
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت کریب سے کہ حضرت ابن عباس اور مسور ابن مخرمہ اورعبدالرحمان ابن ازہر نے ۱؎انہیں حضرت عائشہ کے پاس بھیجا کہا کہ ہم سب کا انہیں سلام کہنا اور ان سے عصر کے بعد والی دو رکعتوں کے متعلق پوچھنا ۲؎فرماتے ہیں میں حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہیں وہ پیغام پہنچایا جو مجھے دے کر بھیجا تھا انہوں نے کہا ام سلمہ سے پوچھو ۳؎میں ان حضرات کی طرف لوٹا انہوں نے مجھے ام سلمہ کے پاس لوٹایا ۴؎ام سلمہ نے فرمایا کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو ان سے منع فرماتے سنا پھر میں نے آپ کو یہ رکعتیں پڑھتے دیکھا پھر آپ تشریف لائے تو میں نے آپ کی خدمت میں لڑکی کو بھیجا ۵؎اور میں نے کہہ دیا کہ آپ سے عرض کرنا یارسول الله صلی الله علیہ وسلم ام سلمہ عرض کرتی ہیں کہ میں نے آپ کو ان دو رکعتوں سے منع کرتے سنا اور آپ کو پڑھتے دیکھتی ہوں فرمایا اے ابی امیہ کی بیٹی ۶؎تم نے عصر کے بعد دو رکعتوں کے متعلق مجھ سے پوچھا میرے پاس عبدالقیس کے کچھ لوگ آئے تھے جنہوں نے مجھے ظہر کے بعد والی دو رکعتوں سے باز رکھا یہ وہی دو رکعتیں ہیں ۷؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎حضرت کریب ابن مسلم سیدنا عبد الله ابن عباس رضی الله عنھماکے غلام ہیں اور مسور ابن مخرمہ عبدالرحمن بن عوف کے بھانجے ہیں، ہجرت کے بعد مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے، ۸ ھ میں مدینہ منورہ آئے،حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے وقت آٹھ سال کے تھے۔ شہادت حضرت عثمان تک مدینہ منورہ رہے پھر مکہ معظمہ آگئے۔یزید کی بیعت نہ کی۔چنانچہ واقعہ کربلا کے بعد جب یزید نے مکہ معظمہ پر منجنیق سے پتھراؤ کیا تو بحالت نماز ایک پتھر آپ کے بھی لگا اور شہید ہوگئے اور حضرت عبدالرحمن ابن ازہر حضرت عبدالرحمن ابن عوف کے بھتیجے ہیں حنین میں حضو ر انور صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔
۲؎آیا حضور انور صلی الله علیہ وسلم پڑھتے تھے یا نہیں،اس سوال کی وجہ یہ تھی کہ ان بزرگوں نے خود نبی صلی الله علیہ وسلم کو ان نفلوں سے منع فرماتے ہوئے سنا،پھر انہیں پتہ لگا کہ سرکار علیہ السلام گھر میں خود پڑھتے تھے تو اس کی تحقیق اور وجہ معلوم کرنے کے لیے انہیں بھیجا،چونکہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنھابڑی فقیہہ عالمہ بی بی تھیں اس لیے ان سے یہ مسئلہ پوچھا،چونکہ یہ حضرات بہت سے تھے۔اس لیے خود حاضر نہ ہوئے بلکہ اپنے خادم کو بھیج دیا،معلوم ہوا کہ مسائل میں ایک کی خبر معتبر ہے ۱۲۳؎یہ ہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنھا کا عدل و انصاف کہ باوجودیکہ بڑی عالمہ فقیہہ ہیں مگر فرمادیا کہ اس مسئلہ کا علم مجھ سے زیادہ حضرت ام سلمہ کو ہےکیونکہ وہ سرکار صلی الله علیہ وسلم سے اس کی وجہ پوچھ چکی ہیں میں نہ پوچھ سکی۔اس سے معلوم ہوا کہ بڑا عالم بھی بے علم فتویٰ نہ دے بلکہ دوسرے کے پاس بھیج دے اور اس میں شرم نہ کرے۱۲
۴؎یہ حضرت کریب کا ادب خادمانہ ہے کہ بغیر آقا کے حکم کے دوسری جگہ نہیں گئے کیونکہ پہلا حکم ختم ہوچکا تھا۱۲
۵؎یعنی سرکار صلی الله علیہ وسلم کو مسجد میں اور کسی بیوی پاک کے گھر میں یہ نفل پڑھتے دیکھا پھر جب میرے گھر میں تشریف لائے تو جس گوشہ میں سرکار علیہ الصلوۃ والسلام بیٹھے تھے وہاں میں خود نہ گئی بلکہ کسی لڑکی کو بھیجا۔لہذا یہ روایت در روایت ہوگئی۔
۶؎ابو امیہ حضرت ام سلمہ کے والد کی کنیت ہے،ان کا نام سہل ابن مغیرہ مخزومی تھا،حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے اس لڑکی کی معرفت خود حضرت ام سلمہ سے خطاب فرمایا کیونکہ اصل سائلہ آپ ہی تھیں(رضی الله تعالٰی عنہما)۔
۷؎یعنی ایک بار ہم وفد عبدالقیس کو تبلیغ کرنے کی وجہ سے ظہر کی دو رکعتیں نہ پڑھ سکے تھے،پھر وہ رکعتیں عصر کے بعد قضا کیں لیکن طریقہ ہمارا یہ ہے کہ جب کوئی نیکی ایک بار کرلیتے ہیں تو پھر ہمیشہ ہی کرتے ہیں،اس لیے اب ہمیشہ ہی پڑھ رہے ہیں۔خیال رہے کہ سنت ظہر کی قضاء کرنا بھی حضور انور صلی الله علیہ وسلم کی خصوصیت ہے،پھر بعد عصر پڑھنا اور پھر ہمیشہ پڑھنا حضور انور صلی الله علیہ وسلم کی خصوصیتیں ہی ہیں اس میں اس سے منع کیا گیا ہے،جیسے روزۂ وصال کہ آپ رکھتے تھے ہمیں منع فرمایا،چنانچہ طحاوی نے اس حدیث کے ساتھ یہ بھی ذکر کیا کہ ام سلمہ نے عرض کیا یارسو ل الله ہم بھی قضا کرلیا کریں فرمایا نہیں۔شوافع نے اس حدیث کی وجہ سے فرمایا کہ سنتوں کی قضاء سنت ہے مگر یہ دلیل کمزور ہے ورنہ انہیں چاہیئے کہ ایک بار کی قضا ہمیشہ پڑھا کریں۱۲
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1043