Main Icon

باب : ممانعت کے اوقات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1050

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُعَاوِيَة قَالَ: إِنَّكُمْ لَتُصَلُّونَ صَلَاةً لَقَدْ صَحِبْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا رَأَيْنَاهُ يُصَلِّيهِمَا وَلَقَدْ نَهٰى عَنْهُمَا يَعْنِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْر. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن معاوية قال: إنكم لتصلون صلاة لقد صحبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فما رأيناه يصليهما ولقد نهى عنهما يعني الركعتين بعد العصر. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معاویہ سے فرماتے ہیں تم ایسی نماز پڑھتے ہو کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ رہتے لیکن ہم نے آپ کو وہ پڑھتے نہ دیکھا ۱؎بے شک اس سے منع کیا یعنی عصر کے بعد دو رکعتیں ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎نماز سے مراد دو رکعتیں ہیں کیونکہ یہ کم سے کم نماز ہے،حنفیوں کے ہاں ایک رکعت کو نماز ہی نہیں کہتے۔مطلب یہ ہے کہ اے تابعین تم عصر کے بعد دو نفل پڑھنے لگے ہم نے یہ نفل پڑھتے حضور انور صلی الله علیہ وسلم کو کبھی نہ دیکھا۔خیال رہے کہ یہاں دیکھنے کی نفی ہے،نہ کہ حضور کے پڑھنے کی۔حضور صلی الله علیہ وسلم بعد عصر تنہائی میں دو رکعتیں پڑھتے تھے تاکہ صحابہ نہ دیکھیں نہ آپ کی اس میں اقتداء کریں۱۲
۲
؎طحاوی شریف میں ہے کہ اس نماز کی ممانعت میں متواتر المعنی حدیثیں آئیں۔حضور صلی الله علیہ وسلم کے بعد صحابہ رضی الله عنھم نے اس پر ہی عمل کیا کہ نہ خود پڑھیں نہ کسی کو پڑھنے کی اجازت دی۔حتی کہ حضرت عمر اس پر سزا دیتے تھے۔فتح القدیرمیں ہے کہ عمر فاروق نے اس نفل پڑھنے والوں کو صحابہ رضی الله عنھم کی موجودگی میں سزا دی اور کسی نے اس کا انکار نہ کیا لہذا اس کی ممانعت پر اجماع ہوگیا۱۲

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1050