Main Icon

باب : ممانعت کے اوقات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1048

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَن عبدِ اللهِ الصُنَابحِي قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ وَمَعَهَا قَرْنُ الشَّيْطَانِ فَإِذَا ارْتَفَعَتْ فَارَقَهَا ثُمَّ إِذَا اسْتَوَتْ قَارَنَهَا فَإِذا زَالَت فَارقهَا فَإِذَا دَنَتْ لِلْغُرُوبِ قَارَنَهَا فَإِذَا غَربَتْ فَارَقَهَا» . وَنَهٰى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الصَّلَاةِ فِي تِلْكَ السَّاعَاتِ. رَوَاهُ مَالِكٌ وَأحمدُ وَالنَّسَائِيّ

عن عبد الله الصنابحي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إن الشمس تطلع ومعها قرن الشيطان فإذا ارتفعت فارقها ثم إذا استوت قارنها فإذا زالت فارقها فإذا دنت للغروب قارنها فإذا غربت فارقها» . ونهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الصلاة في تلك الساعات. رواه مالك وأحمد والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الله صنابحی سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ سورج یوں طلوع ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ شیطان کے سینگ ہوتے ہیں پھر جب بلند ہوجاتا ہے تو سینگ اس سے الگ ہوجاتے ہیں پھر جب استواء ہوتا ہے تو لگ جاتے ہیں پھر جب ڈھل جاتا ہے تو الگ ہوجاتے ہیں پھر جب ڈوبنے کے قریب ہوتا ہے تو لگ جاتے ہیں جب ڈوب جاتا ہے تو الگ ہوجاتے ہیں حضور صلی الله علیہ وسلم نے ان گھڑیوں میں نماز سے منع کیا ۲؎(مالک،احمد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ صحابی ہیں،صنابح ابن زاہر قبیلہ کی طرف منسوب ہیں اور ابو عبد الله صنابحی تابعی ہیں۔بعض شارحین کو ان دو ناموں میں دھوکا پڑ جاتا ہے لہذا یہ حدیث متصل ہے مرسل نہیں۔
۲
؎اس کی شرح بارہا گزر چکی اس میں نہ جمعہ کا استثناء ہے نہ مکہ معظمہ کا لہذا ہر جگہ ہر دن ان تینوں وقتوں میں نماز ناجائز ہے۔امام اعظم رحمۃ الله علیہ کی یہ قوی دلیل ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1048