Main Icon

باب : ممانعت کے اوقات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1040

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا أَنْ نُصَليِّ فِيهِنَّ أَو نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا: حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتّٰى تَرْتَفِعَ وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتّٰى تَمِيلَ الشَّمْسُ وَحِينَ تَضَيَّفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ حَتّٰى تَغرُبَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن عقبة بن عامر قال: ثلاث ساعات كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهانا أن نصلي فيهن أو نقبر فيهن موتانا: حين تطلع الشمس بازغة حتى ترتفع وحين يقوم قائم الظهيرة حتى تميل الشمس وحين تضيف الشمس للغروب حتى تغرب. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے کہ ہم کو نبی صلی الله علیہ وسلم تین وقتوں میں نماز پڑھنے اور مردے دفن کرنے سے منع فرماتے تھے ۱؎جب سورج ظاہر ظہور طلوع ہورہا ہو حتی کہ بلند ہوجائے اور جب ٹھیک دوپہری قائم ہو یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے اور جب سورج ڈوبنے کے قریب ہوجائے حتی کہ ڈوب جائے ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎تمام علماء کے نزدیک یہاں دفن سے مراد نماز جنازہ ہے کیونکہ ان وقتوں میں دفن کرنے کو کوئی منع نہیں کرتا اور ان اوقات میں نماز جنازہ بھی جب ہی مکروہ ہوگی جب کہ جنازہ پہلے سے تیار ہو اور نماز میں دیر کی جائے لیکن اگر جنازہ آیا ہی اس وقت ہے تو نماز پڑھ لے۱۲
۲
؎یہ حدیث گزشتہ حدیث کی تفسیر ہے کہ وہاں طلو ع وغروب سے مراد صرف نکلنا وڈوبنا نہ تھا بلکہ اس سے بعد اور پہلے کا کچھ وقت بھی تھا۔خیال رہے کہ ٹھیک دوپہر شریعت میں نماز شرعی گیارہ بجے ہوا اور نہار نجومی کے نصفوں کا فاصلہ ہے مثلًا آج نصف النہار شرعی گیارہ بجے ہوا اور نصف النہار نجومی پونے بارہ بجے تو یہ پینتالیس۴۵ منٹ بیچ دوپہر ہیں ان میں نماز مکروہ۔شرعی دن پوپھٹنے سے شروع ہوتا ہے اور نجومی دن سورج چمکنے سے اور دونوں غروب آفتاب پرختم ہوجاتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1040