Main Icon

باب : ممانعت کے اوقات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1042

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرٍو بنِ عَبَسَةَ قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ الصَّلَاةِ فَقَالَ: «صَلِّ صَلَاةَ الصُّبْحِ ثُمَّ أَقصِرْ عَنْ الصَّلَاةِ حَتّٰى تَطْلُعُ الشَّمْسُ حَتّٰى تَرْتَفِعَ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ حِينَ تَطْلَعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ ثُمَّ صَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ حَتّٰى يَسْتَقِلَّ الظِّلُّ بِالرَّمْحِ ثُمَّ أَقْصِرْ عَنْ الصَّلَاةِ فَإِنَّ حِينَئِذٍ تُسْجَرُ جَهَنَّمُ فَإِذَا أَقْبَلَ الْفَيْءُ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ حَتّٰى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ ثُمَّ أَقْصِرْ عَنْ الصَّلَاةِ حَتّٰى تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَحِيْنَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكفَّارُ» قَالَ قُلتُ يَا نَبِيَّ اللهِ فَالْوُضُوءُ حَدِّثْنِي عَنْهُ قَالَ: «مَا مِنْكُم رَجُلٌ يُقَرَّبُ وُضُوءُ فَيُمَضمِضُ ويَستَنشِقُ فَيَستَنثِرُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا وَجْهِهٖ وَفِيهِ وَخَيَاشِيمِهٖ ثُمَّ إِذَا غَسَلَ وَجْهَهٗ كَمَا أَمَرَهُ اللهُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا وَجْهِهٖ مِنْ أَطْرَافِ لِحْيَتِهٖ مَعَ الْمَاءِ ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ إِلَى المِرْفَقَيْنِ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا يَدَيْهِ مِنْ أَنَامِلِهٖ مَعَ الْمَاءِ ثُمَّ يَمْسَحُ رَأْسَهٗ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا رَأْسِهٖ مِنْ أَطْرَافِ شَعْرِهٖ مَعَ الْمَاءِ ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ إِلَى الكَعْبَيْنِ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا رِجْلَيِهٖ مِنْ أَنَامِلِهٖ مَعَ الْمَاءِ فَإِنْ هُوَ قَامَ فَصَلّٰى فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنٰى عَلَيْهِ وَمَجَّدَهٗ بِالَّذِي هُوَ لَهٗ أَهْلٌ وَفَرَّغَ قَلْبَهٗ لِلّٰهِ إِلَّا انْصَرَفَ مِنْ خَطِيئَتِهٖ كَهَيْئَتِهٖ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن عمرو بن عبسة قال: قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة فقدمت المدينة فدخلت عليه فقلت: أخبرني عن الصلاة فقال: «صل صلاة الصبح ثم أقصر عن الصلاة حتى تطلع الشمس حتى ترتفع فإنها تطلع حين تطلع بين قرني شيطان وحينئذ يسجد لها الكفار ثم صل فإن الصلاة مشهودة محضورة حتى يستقل الظل بالرمح ثم أقصر عن الصلاة فإن حينئذ تسجر جهنم فإذا أقبل الفيء فصل فإن الصلاة مشهودة محضورة حتى تصلي العصر ثم أقصر عن الصلاة حتى تغرب الشمس فإنها تغرب بين قرني شيطان وحينئذ يسجد لها الكفار» قال قلت يا نبي الله فالوضوء حدثني عنه قال: «ما منكم رجل يقرب وضوء فيمضمض ويستنشق فيستنثر إلا خرت خطايا وجهه وفيه وخياشيمه ثم إذا غسل وجهه كما أمره الله إلا خرت خطايا وجهه من أطراف لحيته مع الماء ثم يغسل يديه إلى المرفقين إلا خرت خطايا يديه من أنامله مع الماء ثم يمسح رأسه إلا خرت خطايا رأسه من أطراف شعره مع الماء ثم يغسل قدميه إلى الكعبين إلا خرت خطايا رجليه من أنامله مع الماء فإن هو قام فصلى فحمد الله وأثنى عليه ومجده بالذي هو له أهل وفرغ قلبه لله إلا انصرف من خطيئته كهيئته يوم ولدته أمه» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ابن عبسہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو میں بھی مدینے آیا آپ کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا کہ مجھے نماز کے متعلق خبر دیجئے ۲؎تو فرمایا کہ نماز فجر پڑھو پھر آفتاب نکلتے وقت نماز سے باز رہو حتی کہ بلند ہوجائے کیونکہ وہ نکلتے وقت شیطان کے دو سینگوں کے درمیان نکلتا ہے اور اس وقت اسے کفار سجدہ کرتے ہیں ۳؎پھر نماز پڑھو کیونکہ وہ نماز حاضری یا گواہی کا وقت ہے ۴؎یہاں تک کہ نیزے کا سایہ کم ہوجائے ۵؎پھر نماز سے باز رہو کیونکہ اس وقت دوزخ جھونکا جاتا ہے ۶؎پھر جب زوال کا سایہ آگے ہوجائے تو نماز پڑھو ۷؎کیونکہ یہ نماز حاضری اور گواہی کا وقت ہے حتی کہ عصر پڑھ لو پھر سورج ڈوبنے تک نماز سے باز رہو کیونکہ وہ شیطان کے سینگوں کے بیچ ڈوبتا ہے ۸؎اس وقت کفار اسے سجدہ کرتے ہیں،فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا نبی الله مجھے وضوء کے متعلق خبر دیجئے تو فرمایا کوئی ایسا شخص نہیں جو وضو کا پانی لے پھر کلی کرے ناک میں پانی ڈالے مگر اس کے چہرے اور منہ اور نتھنوں کی خطائیں گر جاتی ہیں ۹؎پھر جب اسی طرح اپنا منہ دھوئے جیسے اسے الله نے حکم دیا ۱۰؎مگر اس کے چہرے کی خطائیں داڑھی کے کناروں سے پانی کے ساتھ گر جاتی ہیں،پھر اپنے ہاتھ کہنیوں تک دھوئے مگر اس کے ہاتھوں کی خطائیں پانی کے ساتھ پوروں سےگر جاتی ہیں،پھر اپنے سر کا مسح کرے مگر اس کے سر کی خطائیں پانی کے ساتھ بالوں کے کناروں سے گر جاتی ہیں ۱۱؎پھر اپنے پاؤں ٹخنوں تک دھوئے مگر اس کے پاؤں کی خطائیں پانی کے ساتھ پوروں سے گرجاتی ہیں پھر اگر کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو الله کی وہ حمد و ثناء اور بڑائی کرے جس کے وہ لائق ہے اور اپنا دل الله کے لیے خالی کرے مگر اپنی خطاؤں سے اس دن کی طرح پھرے گا جس دن اسے ماں نے جنا ۱۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎آپ قدیم الاسلام صحابی ہیں،حتی کہ بعض نے کہا آپ چوتھے مسلمان ہیں ان سے حضورصلی الله علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ابھی گھر چلے جاؤ جب ہمارا غلبہ ہو تو آجانا۔چنانچہ بعد ہجرت یہ بھی حضور علیہ السلام کے پاس پہنچ گئے۔ان کے حالات پہلے بیان ہوچکے ہیں۔
۲
؎کہ کون سی نماز کس وقت پڑھی جائے جیسا کہ جواب سے ظاہر ہے۔
۳
؎لہذا تمہارا اس وقت نماز پڑھنا کفار کی عبادت کے مشابہ ہوگا۔خیال رہے کہ اگرچہ کفار اور وقت بھی عبادت کرتے ہیں مگر اس وقت کی عبادت ان کی مذہبی علامت ہے۔علامت کفر سے بچنا ضروری ہے،تشبیہ اور ہے اور اشتراک کچھ اور۔
۴
؎یعنی نماز اشراق و چاشت پڑھو اس نماز میں تمہارے ساتھ تمہارے ساتھی فرشتے موجود ہوں گے اور تمہارے گواہ،یہ حکم استحبابی ہے کیونکہ نماز اشراق و چاشت واجب نہیں۱۲
۵
؎یعنی نیزے کا سایہ اس سے کم ہو جائے جسے سایہ اصلی کہتے ہیں جو نصف النہار کے وقت ہوتا ہے، اس کی درازی موسم کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے،شاید جس وقت سرکار نے یہ فرمایا اس وقت سایہ اصلی چیز سے کم ہوتا ہے۔
۶
؎یعنی دوپہر کے وقت دوزخ میں ایندھن ڈالا جاتا ہے جس سے وہ بھڑک جاتا ہے۔اس کی تحقیق باب الاوقات میں کی جاچکی وہاں اس کا جواب دیا گیا ہے کہ ہر وقت کہیں نہ کہیں دوپہر رہتی ہے پھر اس وقت دوزخ جھونکنے کے کیا معنی۔
۷
؎یہ امر اباحت کے لیے ہے یعنی سورج ڈھل جانے پر نماز پڑھ سکتے ہو،یہ مطلب نہیں کہ سور ج ڈھلتے ہی ظہر پڑ ھ لو۔اس کی،تحقیق بھیباب الاوقاتمیں کی جاچکی گرمیوں میں ظہر ٹھنڈی کرکے پڑھنا مستحب ہے ۱۲
۸
؎یعنی نماز عصر پڑھنے کے بعد ہر نماز سے باز رہو جیسا کہ باب الاوقات میں ذکر ہوا۔
۹
؎اس کی شرح باب الوضوء میں ہوچکی کہ یہاں خطاؤں سے مراد گناہ صغیرہ ہیں نہ کہ گناہ کبیرہ اور نہ حقوق العباد اور یہ ہم لوگوں کے احکام ہیں اسی لیے ہمارے وضو کا غسالہ مستعمل پانی کہلاتا ہے جس سے وضو نہیں کرسکتا اور اس کا پینا مکروہ،حضور صلی الله علیہ وسلم کا غسالہ نور لے کر نکلتا ہے اسی لیے صحابہ رضی الله عنھم تبرک سمجھ کر پیتے تھے۔
۱۰
؎کلی اور ناک میں پانی ڈالنا سنتیں تھیں مگر چہرہ دھونا فرض ہے جس کا رب نے حکم دیا ہے کہ فرمایا:"فَاغْسِلُوۡا وُجُوۡھَکُمْ" یا یہ مطلب ہے کہ جیسے رب نے پورا چہرہ دھونے کا حکم دیا ایسے ہی پورا دھوئے کہ بال برابر بھی جگہ سوکھی نہ رہے۔
۱۱
؎سر کی خطاؤں میں کانوں کی خطائیں بھی داخل ہیں یعنی برے خیالات اور بری عادتیں اور بری باتیں سننے کے گناہ سب مسح سے معاف ہوجاتے ہیں۔اس لیے کانوں کا مسح سر کے ساتھ اور سر کے پانی سے ہوتا ہے۔خیال رہے کہ سر کے مسح میں پانی گرتا نہیں بلکہ سر کو لگتا ہے مگر اس سے خطائیں جھڑجاتی ہیں۔دھونے والے اعضاء میں پانی خطائیں لے کر نکلتا ہے اور سر میں پانی خطاؤں کو نکالتا ہے۔خیال رہے کہ ان خطاؤں کو پانی نہیں نکالتا حضور انور صلی الله علیہ وسلم کی اتباع نکالتی ہے،ورنہ مشرک خواہ کتنا ہی وضو کرے اس کی خطائیں معاف نہیں ہوتیں اور مسلمان بغیر نیت وضو ٹھنڈک کے لیے بارہا ان اعضاء پر پانی ڈالے یہ فیض حاصل نہیں ہوتا ۱۲
۱۲
؎یعنی گناہ تو وضو سے معاف ہوچکے،نماز رفع درجات کا ذریعہ ہے خواہتحیۃ الوضوکے نفل ہوں یا اور کوئی نماز۱۲

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1042