Main Icon

باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6094

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَيْرٌ فَقَالَ: «اَللّٰهُمَّ ائْتِنِي بِأَحَبِّ خَلْقِكَ إِلَيْكَ يَأْكُلُ مَعِيَ هٰذَاالطَّيْرَ» فجَاءَہٗ عَلِيٌّ فَأَكَلَ مَعَهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَ قَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ

وعن أنس قال: كان عند النبي صلى الله عليه وسلم طير فقال: «اللهم ائتني بأحب خلقك إليك يأكل معي هذاالطير» فجاءہ علي فأكل معه. رواه الترمذي و قال: هذاحديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ و سلم کے پاس ایک چڑیا تھی ۱؎تو فرمایاالٰہی میرے پاس ایسے شخص کو لا جو ساری مخلوق سے تجھے پسند ہو کہ میرے ساتھ یہ چڑیا کھائے ۲؎تو ان کے پاس علی آئے آپ کے ساتھ کھائی (ترمذی) اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی بھنی ہوئی بٹیر یا کوئی اور ایک انصاری بی بی نے بھون کر بطورِ ہدیہ آپ کی خدمت میں بھیجی تھی۔(مرقات)
۲
؎باحب خلقكمیںببمعنیمنہے یعنی جو جماعت تجھے بہت محبوب ہے ان میں سے ایک کو بھیج دے اور واقعی حضرت علی رضی اللہ عنہ اس جماعت میں تھے یا یہ مطلب ہے کہ جس کا میرے ساتھ یہ چڑیا کھانا مجھے بہت پسند ہو اسے میرے پاس بھیج دے۔بہرحال اس کا مطلب یہ نہیں کہ جناب علی خدا کو محبوب تھے اور کوئی نہ تھا ورنہ لازم آوے گا کہ حضرت فاطمہ زہرا بلکہ خود حضور اور حسنین کریمین بھی خدا کے محبوب بندے نہ ہوںنعوذ بالله!خیال رہے کہ محبوبیت بہت قسم کی ہے: ازواج اور قسم کی محبوبہ ہیں،فاطمہ زہرا دوسری قسم کی محبوبہ،حضرت حسنین اور طرح کے محبوب،علی مرتضیٰ اور طرح کے محبوب، ابوبکر صدیق عمر فاروق اور طرح کے محبوب،ازواج اولاد دوست ان سب سے محبت ہوتی ہے مگر مختلف قسم کی،ایک قسم کی محبت میں حضرت علی سب سے زیادہ ہیں۔ دوسری قسم کی محبت میں حضرت ابوبکر صدیق یا عائشہ صدیقہ سب سے زیادہ محبوب ہیں لہذا تمام احادیث برحق ہیں۔
۳
؎ابن جوزی نے کہا کہ یہ حدیث موضوع ہے مگر حق یہ ہے کہ موضوع نہیں۔یہ حدیث بہت اسنادوں سے مروی جو سب ضعیف ہیں،تعدد اسناد سے حدیث ضعیف بھی قوی ہوجاتی ہے اور فضائل میں حدیث ضعیف بھی معتبر ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6094