- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- حدیث نمبر 6089
باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6089
فضائل کا بیان - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ: «لَأُعْطِيَنَّ هَذِهٖ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يَفْتَحُ اللّٰهُ عَلٰى يَدَيْهِ يُحِبُّ اللّٰهَ وَرَسُولَهَ وَيُحِبُّهُ اللّٰهُ وَرَسُولُهُ» . فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهُمْ يَرْجُونَ أَنْ يُعْطَاهَا فَقَالَ: «أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ؟» فَقَالُوا: هُوَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ. قَالَ: «فَأَرْسِلُوا إِلَيْهِ» . فَأُتِيَ بِهٖ فَبَصَقَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنَيْهِ فَبَرَأَ حَتّٰى كَأَنْ لَّمْ يَكُنْ بِهٖ وَجَعٌ فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ فَقَالَ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللهِ أُقَاتِلُهُمْ حَتّٰى يَكُونُوا مِثْلَنَا؟ فَقَالَ: «انْفُذْ عَلٰى رِسْلِكَ حَتّٰى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الإِسْلَامِ وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ اللّٰهِ فِيهِ فَوَاللّٰهِ لَأَنْ يَّهْدِي اللّٰهُ بِكَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَّكَ مِنْ أَنْ يَّكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ». وَذُكِرَ حَدِيثُ الْبَرَاءِ قَالَ لِعَلِيٍّ: « أَنْتَ مِنِّيْ وَأَنَا مِنْكَ» فِي بَابِ «بُلُوغِ الصَّغِيرِ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
وعن سهل بن سعد أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يوم خيبر: «لأعطين هذه الراية غدا رجلا يفتح الله على يديه يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله» . فلما أصبح الناس غدوا على رسول الله صلى الله عليه وسلم كلهم يرجون أن يعطاها فقال: «أين علي بن أبي طالب؟» فقالوا: هو يا رسول الله يشتكي عينيه. قال: «فأرسلوا إليه» . فأتي به فبصق رسول الله صلى الله عليه وسلم في عينيه فبرأ حتى كأن لم يكن به وجع فأعطاه الراية فقال علي: يا رسول الله أقاتلهم حتى يكونوا مثلنا؟ فقال: «انفذ على رسلك حتى تنزل بساحتهم ثم ادعهم إلى الإسلام وأخبرهم بما يجب عليهم من حق الله فيه فوالله لأن يهدي الله بك رجلا واحدا خير لك من أن يكون لك حمر النعم». وذكر حديث البراء قال لعلي: « أنت مني وأنا منك» في باب «بلوغ الصغير» (متفق عليه)
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے خیبر کے دن فرمایا کہ کل میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا کہ جس کے ہاتھ الله تعالٰی فتح دے گا ۱؎وہ الله اور رسول سے محبت کرتا ہے اور الله رسول اس سے محبت کرتے ہیں ۲؎پھر جب لوگوں نے صبح پائی تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں سب حاضر ہوئے ہر ایک یہ آس لگائے کہ جھنڈا اسے دیا جاوے۳؎فرمایا علی ابن طالب کہاں ہیں لوگوں نے عرض کیا آنکھوں کے بیمار ہیں فرمایا انہیں بلاؤ ۴؎چنانچہ انہیں لایا گیا ۵؎رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے اپنا لعاب ان کی آنکھوں میں لگایا وہ ایسے اچھے ہوگئے گویا انہیں درد تھا ہی نہیں ۶؎حضور نے انہیں جھنڈا دیا تو علی نے عرض کیا یارسول الله کیا میں ان سے جنگ کروں حتی کہ وہ ہماری مثل ہو جاویں ۷؎فرمایا اپنے نرمی پر جاؤ حتی کہ ان کے میدان میں اترو پھر انہیں اسلام کی طرف بلاؤ اور انہیں الله کے ان حقوق کی خبر دو جو ان پر لازم ہیں اسلام میں ۸؎خدا کی قسم الله تمہارے ذریعے ایک شخص کو ہدایت دے دے یہ تمہارے لیے اس سے اچھا ہے کہ تمہارے پاس سرخ اونٹ ہوں ۹؎(مسلم،بخاری) اور براء کی حدیث کہ حضور نے جناب علی سے فرمایا کہ تم مجھ سے قریب ہو میں تم سے بلوغ صغیر کے باب میں ذکر کردی گئی ۱۰؎
شرح حدیث
۱∞؎یعنی تقدیر الٰہی یہ ہے کہ حضرت علی فاتح خیبر ہوں اور اس فتح کا سہرا ان کے سر رہے ورنہ اور صحابی بھی فتح کرسکتے تھے۔جس پر حضور ہاتھ رکھ دیتے وہ ہی فتح کرلیتا انہیں صحابہ نے یرموک اور قادسیہ جیسی جنگیں فتح فرمائی ہیں رضی الله عنہم۔
۲؎یعنی الله رسول اس کے ہاتھ پر خیبر فتح ہونا پسند کرتے ہیں۔اس فرمان عالی کہ مطلب یہ نہیں کہ حضرت علی رضی الله عنہ تو الله رسول کو پیارے ہیں باقی تمام صحابہ اور حضرت فاطمۃ الزہرا حسنین کریمین خدا کو پیارے نہیں خدا تعالٰی ان سب سے ناراض ہےنعوذ بالله!۳؎تمام صحابہ نے رات بھر صبح کا انتظار کیا کہ دیکھیں کس کی قسمت چمکتی ہے صبح کو تمام صحابہ اسی امید میں حضور انور کے سامنے پیش ہوگئے مگر یہ سعادت تو حضرت علی رضی الله عنہ کے نصیب میں تھی،چونکہ اس سعادت کے ملنے کی تمنا کرنا اس کا رات بھر انتظار کرنا بھی عبادت تھا اس لیے حضور نے صراحۃً حضرت علی کا نام نہیں لیا تاکہ سب لوگ انتظار اور تمنا کرکے ثواب پائیں۔
۴؎حضرت علی کی آنکھیں دکھ رہی تھیں اس لیے وہ فجر کی نماز میں حاضر نہ ہوسکے اپنے خیمہ میں رہے،حضور انور نے بطور تعجب پوچھا کہ اس مبارک موقعہ پر علی کیوں نہیں،یہ نہیں ہوا تھا کہ حضرت علی مدینہ منورہ میں تھے حضور نے پکارا اے علی میری مدد کو پہنچو میرا ساتھ صحابہ نے چھوڑ دیا آپ مدینہ سے اڑ کر خیبر پہنچےنعوذ بالله!یہ سب روافض کا بہتان ہے۔
۵؎یعنی آنکھوں میں اتنی تکلیف تھی کہ دوسرے صحابہ آپ کو پکڑ کر حضور تک لائے حضور نے آنکھوں کی تکلیف دیکھ کر لعاب دہن لگایا۔
۶؎یہ ہے لعاب رسول کا معجزہ۔حضرت علی کی آنکھ کا سرمہ ہے،حضرت عبدالله ابن عتیک کی ٹوٹی ہڈی کا سریش ہے، کھاری کنویں میں پڑے میٹھا کردے خشک کنویں میں پڑے اس میں پانی پیدا کردے غرضکہ معجزات کا مجموعہ ہے۔اشعۃ اللمعات میں ہے کہ اس کے بعد آپ کی آنکھوں میں کبھی کوئی تکلیف نہ ہوئی۔خیال رہے کہ حضور انور کو یہ خبر تھی کہ خلافت حیدری میں اسلامی فتوحات نہ ہوں گی خانہ جنگی رہے گی اس لیے فتح خیبر کے لیے آپ کو چنا گیا تاکہ تاقیامت خیبر کا ہر ذرہ آپ کی شجاعت کے خطبے پڑھے۔شعر
الله تعالٰی تری شوکت تری صولت کا کیا کہنا کہ خطبہ پڑھ رہا ہے آج تک خیبر کا ہر ذرہ
۷؎یعنی کیا میں اہلِ خیبر کو جبرًا مسلمان بناؤں کہ وہ یا مسلمان ہوجائیں یا قتل کردیئے جائیں،خیبر کے عام باشندے یہودی تھے۔
۸؎یعنی ان پر یکدم حملہ مت کرو بلکہ پہلے انہیں مسلمان ہوجانے کی رغبت دو اسلام پر مجبور نہ کرو۔
۹؎یعنی ایک کافر کو مسلمان بنانا دنیا کی بڑی دولت سے بھی بہتر ہے بلکہ کافر کو قتل کرنے سے بہتر ہے کہ اسے رغبت دے کر مسلمان کرلیا جاوے کہ اس سے اس کی ساری نسل مسلمان ہوگی۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ پہلے دن حضور نے حضرت ابوبکر صدیق کی سرکردگی میں لشکر بھیجا سخت جنگ ہوئی مگر کامیابی نہ ہوئی،دوسرے دن حضرت عمر کی سرگردگی میں لشکر بھیجا اس دن بہت گھمسان کا رن پڑا مگر خیبر فتح نہیں ہوا،تیسرے دن فتح کی بشارت دی اور حضرت علی کی سرکردگی میں لشکر بھیجا آپ کے ایک ہاتھ پر خیبر فتح ہوا۔(مرقات)حضور کے غلام ابو رافع فرماتے ہیں کہ اس دن حضرت علی کے ساتھ خیبر کی جنگ میں تھا آپ کے ہاتھ میں ڈھال تھی دوسرے میں تلوار یہود خیبر قلعہ سے نکل آئے سخت جنگ ہوئی ایک یہودی نے آپ کے ایک ہاتھ پر کوئی چیز ماری جس سے ڈھال گر گئی آپ نے قلعہ کا دروازہ اٹھالیا۔اور اسے ڈھال کی طرح استعمال فرمایا خیبر فتح فرمانے کے بعد اسے رکھا ہم سات آدمیوں نے اسے اٹھانا چاہا تھا جن میں میں بھی تھامگر ساتویں کے زور سے وہ ہل نہ سکا یہ ہے طاقت حیدری۔(مرقات)شعر
شیر شمشیر زن شاہ خیبر شکن پرتو دست قدرت پہ لاکھوں سلام
اسے امام احمد نے باب مناقب میں روایت کیا حضرت جابر سے روایت ہے کہ حضرت علی نے دروازہ خیبر اکھیڑا اور مسلمانوں کو اس پر سے اتار دیا خیبر فتح ہوگیا،بعد میں چالیس آدمیوں نے اسے اٹھانا چاہا نہ اٹھا سکے،بعض روایات میں ہے ستر صحابہ نہ اٹھا سکے۔حاکم نے اربعین میں حضرت علی سے روایت کی کہ جب سے حضور کا لعاب میری آنکھ میں لگا میری آنکھیں دکھنے نہ آئیں،احمد نے حضرت عبدالرحمن ابن یعلیٰ سے روایت کی کہ حضرت علی گرم کپڑے گرمیوں میں اور ٹھنڈے کپڑے سردیوں میں پہنتے تھے،میں نے اس کی وجہ پوچھی آپ نے فرمایا کہ جب حضور صلی الله علیہ و سلم نے میری آنکھ میں لعاب لگایا تو ساتھ میں یہ دعا دی الٰہی علی سے ٹھنڈک اور گرمی دور کردے اس دن سے مجھے نہ سردی لگتی ہے اور نہ گرمی۔(مرقات)
۱۰؎اور اس کی شرح بھی وہاں ہی ہوچکی کہ علی مجھ سے قریب ہیں میں علی سے قریب ہوں۔اس کا مطلب وہ نہیں جو روافض کرتے ہیں کہ علی مجھ سے پیدا ہوئے اور علی کے نور سے میں پیدا ہوانعوذ بالله،یا علی میرے جسم کا ٹکڑا ہیں اور میں علی کے جسم کا ٹکڑا ہوں ورنہ دور لازم ہوگا،نیز اس صورت میں حضرت علی کا نکاح جناب فاطمہ زہرا سے درست نہ ہوتا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6089