Main Icon

باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6100

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُحِبُّ عَلِيًّا مُنَافِقٌ وَلَا يُبْغِضُهٗ مُؤْمِنٌ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ:هٰذَاحَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ إِسْنَادًا

عن أم سلمة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا يحب عليا منافق ولا يبغضه مؤمن» . رواه أحمد والترمذي وقال:هذاحديث حسن غريب إسنادا

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ علی سے منافق محبت نہیں کرتا اور ان سے مؤمن بغض نہیں رکھتا ۱؎(احمد،ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث اسناد سے غریب ہے

شرح حدیث

۱∞؎سبحان الله!حضرت علی ایمان کی کسوٹی ہیں۔جو اپنے ایمان کی تحقیق کرنا چاہے کہ میں مؤمن ہوں یا منافق وہ اپنے دل کی گہرائیوں میں غور کرے کہ مجھے ان سرکار سے کتنی محبت ہے۔خیال رہے کہ یہاں محبت علی کا ذکر ہے نہ کہ صرف دعویٰ محبت علی کا،محض دعویٰ محبت کرنا اور ہر طرح ان سرکار کی مخالفت کرنا در حقیقت حضرت علی سے عداوت ہے۔بعض لوگ بے نمازبھنگی چرسی اولاد علی کو،حضرات صحابہ کو جو حضرت علی کے دوست ہیں انہیں گالیاں دیتے ہیں وہ محبان علی نہیں دشمنان علی ہیں،رب فرماتاہے:"اِنۡ کُنۡتُمْ تُحِبُّوۡنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ"اطاعت علی بڑی چیز ہے الله وہ نصیب کرے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6100