- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- حدیث نمبر 6103
باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6103
فضائل کا بیان - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَزَلَ بِغَدِيرِ خُمٍّ أَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ فَقَالَ: « أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟» قَالُوا: بَلٰى قَالَ: «أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلٰى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ؟» قَالُوا: بَلٰى قَالَ: «اللّٰهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ اللّٰهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ» . فَلَقِيَهٗ عُمَرُ بَعْدَ ذٰلِكَ فَقَالَ لَهُ: هَنِيئًا يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ أَصْبَحْتَ وَأَمْسَيْتَ مَوْلٰى كُلِّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ. رَوَاهُ أَحْمدُ
وعن البراء بن عازب وزيد بن أرقم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما نزل بغدير خم أخذ بيد علي فقال: « ألستم تعلمون أني أولى بالمؤمنين من أنفسهم؟» قالوا: بلى قال: «ألستم تعلمون أني أولى بكل مؤمن من نفسه؟» قالوا: بلى قال: «اللهم من كنت مولاه فعلي مولاه اللهم وال من والاه وعاد من عاداه» . فلقيه عمر بعد ذلك فقال له: هنيئا يا ابن أبي طالب أصبحت وأمسيت مولى كل مؤمن ومؤمنة. رواه أحمد
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت براء ابن عازب اور زید ابن ارقم سے کہ جب رسول الله صلی الله علیہ و سلم خم تالاب پر اترے ۱؎تو جناب علی کا ہاتھ پکڑا فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ میں مؤمنوں سے ان کی جانوں سے زیادہ قریب ہوں سب نے کہا ہاں فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ میں ہر مسلمان کا والی ہوں اس کی جان سے زیادہ ۲؎لوگ بولے ہاں تو فرمایا الٰہی جس کا میں مولٰی ہوں اس کے علی مولٰی(دوست)ہیں ۳؎الٰہی جو ان سے محبت کرے تو اس سے محبت کر اور جوان سے دشمنی کرے تو اس کا دشمن رہ ۴؎جناب علی سے اس کے بعد حضرت عمر ملے بولے اےابوطالب کے فرزند مبارک ہو کہ تم نے صبح سویرا پایا اس طرح کہ تم ہر مؤمن مردوعورت کے مولٰی ہو ۵؎(احمد)
شرح حدیث
۱∞؎غدیربمعنی تالاب خم ایک جگہ ہے حجفہ منزل سے تین میل دور یہ واقعہ حجۃ الوداع سے واپسی پر ہوا بعض لوگ سمجھے کہ یہ واقعہ حج کو جاتے ہوئے ہوا اس وقت حضرت علی یمن میں تھے وہاں موجود ہی نہ تھے اس وہم سے انہوں نے کہا کہ یہ حدیث صحیح نہیں۔مگر یہ ان کی غلط فہمی ہے واپسی پر یہ واقعہ ہوا ہے اس وقت جناب علی ساتھ تھے۔
۲؎اولٰی من انفسھممیں عموم مراد ہے اور یہاںاولٰی من نفسہمیں خصوصی حکم مراد ہے،اس فرمان عالی میں اس آیت کی طرف اشارہ ہے"اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیۡنَ مِنْ اَنۡفُسِهِمْ"۔
۳؎مولٰی کےبہت معنی ہیں دوست،مددگار،آزاد شدہ غلام،آزاد کرنے والا مولٰی۔ا س کے معنی خلیفہ یا بادشاہ نہیں۔یہاں بمعنی دوست محبوب ہے یا بمعنی مددگار اور واقعی حضرت علی مسلمانوں دوست بھی ہیں اور مددگار بھی اس لئےآپ کو مولٰی علی کہتے ہیں رب فرماتاہے:"فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیۡلُ وَ صٰلِحُ الْمُؤْمِنِیۡنَ"۔شیعہ کہتے ہیں کہ مولا بمعنی خلیفہ ہے اور اس حدیث سے لازم ہے کہ بجز حضرت علی کے خلیفہ کوئی نہیں آپ خلیفہ بلا فصل ہیں مگر یہ غلط ہے چند وجہ سے: ایک یہ کہ مولٰی بمعنی خلیفہ یا بمعنی اولٰی بالخلافہ کبھی نہیں آتا بتاؤ الله تعالٰی اور حضرت جبریل کس کے خلیفہ ہیں حالانکہ قرآن مجید میں انہیں مولٰی فرمایا"فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیۡلُ"۔دوسرے یہ کہ حضور صلی الله علیہ و سلم کسی کے خلیفہ نہیں پھرمن کنت مولاہکے کیا معنی ہوں گے۔ تیسرے یہ کہ حضرت علی حضور کی موجودگی میں خلیفہ نہ تھے حالانکہ حضور نے اپنی حیات شریف میں یہ فرمایا پھر مولٰی بمعنی خلیفہ کیسے ہوگا۔چوتھے یہ کہ اگر مان لو کہ مولٰی بمعنی خلیفہ ہی ہو تو بھی بلا فصل خلافت کیسے ثابت ہوگی واقعی آپ خلیفہ ہیں مگر اپنے موقعہ اپنے وقت میں۔پانچویں یہ کہ اگر یہاں مولٰی بمعنی خلیفہ ہوتا تو جب سقیفہ بنی ساعدہ میں انصار سے حضرت صدیق اکبر نے کہا کہ حضور صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا ہےالخلافۃ فی القریشخلافت قریشی میں ہے تم لوگ چونکہ قریش نہیں لہذا تم امیر نہیں بن سکتے وزیر بن سکتے ہو،اس وقت حضرت علی نے یہ واقعہ لوگوں کو یاد کیوں نہ کرادیا کہ حضور صلی الله علیہ و سلم تو مجھے خلافت دے گئے میرے سوا کوئی خلیفہ نہیں ہوسکتا بلکہ آپ خاموش رہے اور تینوں خلفاء کے ہاتھ پر باری باری بیعت کرتے رہے۔معلوم ہوا کہ آپ کی نظر میں بھی یہاں مولٰی بمعنی خلیفہ نہ تھا۔چھٹے یہ کہ حضور کے مرض وفات میں حضرت عباس نے جناب علی سے کہا کہ چلو حضور سے خلافت اپنے لیے لے لو حضرت علی نے انکار کیا کہ میں نہیں مانگوں گا ورنہ حضور مجھے ہرگز نہ دیں گے۔(اشعہ وکتب احادیث)اگر یہاں مولٰی بمعنی خلیفہ تھا تو یہ مشورہ کیسا۔ساتویں یہ کہ خلافت کے لیے روافض کے پاس نص قطعی الثبوت اور قطعی الدلالت چاہیے یہ حدیث نہ تو قطعی الثبوت ہے کہ حدیث واحد ہے نہ قطعی الدلالت کہ مولٰی کے بہت معنی ہیں اور مولٰی بمعنی خلیفہ کہیں نہیں آتا۔
۴؎معلوم ہوا کہ جو حضرت علی کا دشمن ہے خدا تعالٰی اس کا دشمن ہے صحابہ کرام کا آپس میں اختلاف رائے تھا دشمنی نہ تھی وہ تو "رُحَمَآءُ بَیۡنَهُمْ"تھے۔ابھی اس کی تحقیق گزرگئی،اختلاف،مخالفت،دشمنی میں بڑا فرق ہے۔
۵؎یعنی اے علی تم کو الله نے بڑی شان بخشی تمہاری محبت و الفت ایمان کی کسوٹی ہے تمہارا دشمن کافر ہے تمہارا محب مؤمن بشرطیکہ محبت صحیح ہو۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6103