Main Icon

باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6103

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَزَلَ بِغَدِيرِ خُمٍّ أَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ فَقَالَ: « أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟» قَالُوا: بَلٰى قَالَ: «أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلٰى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ؟» قَالُوا: بَلٰى قَالَ: «اللّٰهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ اللّٰهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ» . فَلَقِيَهٗ عُمَرُ بَعْدَ ذٰلِكَ فَقَالَ لَهُ: هَنِيئًا يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ أَصْبَحْتَ وَأَمْسَيْتَ مَوْلٰى كُلِّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ. رَوَاهُ أَحْمدُ

وعن البراء بن عازب وزيد بن أرقم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما نزل بغدير خم أخذ بيد علي فقال: « ألستم تعلمون أني أولى بالمؤمنين من أنفسهم؟» قالوا: بلى قال: «ألستم تعلمون أني أولى بكل مؤمن من نفسه؟» قالوا: بلى قال: «اللهم من كنت مولاه فعلي مولاه اللهم وال من والاه وعاد من عاداه» . فلقيه عمر بعد ذلك فقال له: هنيئا يا ابن أبي طالب أصبحت وأمسيت مولى كل مؤمن ومؤمنة. رواه أحمد

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت براء ابن عازب اور زید ابن ارقم سے کہ جب رسول الله صلی الله علیہ و سلم خم تالاب پر اترے ۱؎تو جناب علی کا ہاتھ پکڑا فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ میں مؤمنوں سے ان کی جانوں سے زیادہ قریب ہوں سب نے کہا ہاں فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ میں ہر مسلمان کا والی ہوں اس کی جان سے زیادہ ۲؎لوگ بولے ہاں تو فرمایا الٰہی جس کا میں مولٰی ہوں اس کے علی مولٰی(دوست)ہیں ۳؎الٰہی جو ان سے محبت کرے تو اس سے محبت کر اور جوان سے دشمنی کرے تو اس کا دشمن رہ ۴؎جناب علی سے اس کے بعد حضرت عمر ملے بولے اےابوطالب کے فرزند مبارک ہو کہ تم نے صبح سویرا پایا اس طرح کہ تم ہر مؤمن مردوعورت کے مولٰی ہو ۵؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎غدیربمعنی تالاب خم ایک جگہ ہے حجفہ منزل سے تین میل دور یہ واقعہ حجۃ الوداع سے واپسی پر ہوا بعض لوگ سمجھے کہ یہ واقعہ حج کو جاتے ہوئے ہوا اس وقت حضرت علی یمن میں تھے وہاں موجود ہی نہ تھے اس وہم سے انہوں نے کہا کہ یہ حدیث صحیح نہیں۔مگر یہ ان کی غلط فہمی ہے واپسی پر یہ واقعہ ہوا ہے اس وقت جناب علی ساتھ تھے۔
۲
؎اولٰی من انفسھممیں عموم مراد ہے اور یہاںاولٰی من نفسہمیں خصوصی حکم مراد ہے،اس فرمان عالی میں اس آیت کی طرف اشارہ ہے"اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیۡنَ مِنْ اَنۡفُسِهِمْ
۳
؎مولٰی کےبہت معنی ہیں دوست،مددگار،آزاد شدہ غلام،آزاد کرنے والا مولٰی۔ا س کے معنی خلیفہ یا بادشاہ نہیں۔یہاں بمعنی دوست محبوب ہے یا بمعنی مددگار اور واقعی حضرت علی مسلمانوں دوست بھی ہیں اور مددگار بھی اس لئےآپ کو مولٰی علی کہتے ہیں رب فرماتاہے:"فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیۡلُ وَ صٰلِحُ الْمُؤْمِنِیۡنَ"۔شیعہ کہتے ہیں کہ مولا بمعنی خلیفہ ہے اور اس حدیث سے لازم ہے کہ بجز حضرت علی کے خلیفہ کوئی نہیں آپ خلیفہ بلا فصل ہیں مگر یہ غلط ہے چند وجہ سے: ایک یہ کہ مولٰی بمعنی خلیفہ یا بمعنی اولٰی بالخلافہ کبھی نہیں آتا بتاؤ الله تعالٰی اور حضرت جبریل کس کے خلیفہ ہیں حالانکہ قرآن مجید میں انہیں مولٰی فرمایا"فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیۡلُ"۔دوسرے یہ کہ حضور صلی الله علیہ و سلم کسی کے خلیفہ نہیں پھرمن کنت مولاہکے کیا معنی ہوں گے۔ تیسرے یہ کہ حضرت علی حضور کی موجودگی میں خلیفہ نہ تھے حالانکہ حضور نے اپنی حیات شریف میں یہ فرمایا پھر مولٰی بمعنی خلیفہ کیسے ہوگا۔چوتھے یہ کہ اگر مان لو کہ مولٰی بمعنی خلیفہ ہی ہو تو بھی بلا فصل خلافت کیسے ثابت ہوگی واقعی آپ خلیفہ ہیں مگر اپنے موقعہ اپنے وقت میں۔پانچویں یہ کہ اگر یہاں مولٰی بمعنی خلیفہ ہوتا تو جب سقیفہ بنی ساعدہ میں انصار سے حضرت صدیق اکبر نے کہا کہ حضور صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا ہےالخلافۃ فی القریشخلافت قریشی میں ہے تم لوگ چونکہ قریش نہیں لہذا تم امیر نہیں بن سکتے وزیر بن سکتے ہو،اس وقت حضرت علی نے یہ واقعہ لوگوں کو یاد کیوں نہ کرادیا کہ حضور صلی الله علیہ و سلم تو مجھے خلافت دے گئے میرے سوا کوئی خلیفہ نہیں ہوسکتا بلکہ آپ خاموش رہے اور تینوں خلفاء کے ہاتھ پر باری باری بیعت کرتے رہے۔معلوم ہوا کہ آپ کی نظر میں بھی یہاں مولٰی بمعنی خلیفہ نہ تھا۔چھٹے یہ کہ حضور کے مرض وفات میں حضرت عباس نے جناب علی سے کہا کہ چلو حضور سے خلافت اپنے لیے لے لو حضرت علی نے انکار کیا کہ میں نہیں مانگوں گا ورنہ حضور مجھے ہرگز نہ دیں گے۔(اشعہ وکتب احادیث)اگر یہاں مولٰی بمعنی خلیفہ تھا تو یہ مشورہ کیسا۔ساتویں یہ کہ خلافت کے لیے روافض کے پاس نص قطعی الثبوت اور قطعی الدلالت چاہیے یہ حدیث نہ تو قطعی الثبوت ہے کہ حدیث واحد ہے نہ قطعی الدلالت کہ مولٰی کے بہت معنی ہیں اور مولٰی بمعنی خلیفہ کہیں نہیں آتا۔
۴
؎معلوم ہوا کہ جو حضرت علی کا دشمن ہے خدا تعالٰی اس کا دشمن ہے صحابہ کرام کا آپس میں اختلاف رائے تھا دشمنی نہ تھی وہ تو "رُحَمَآءُ بَیۡنَهُمْ"تھے۔ابھی اس کی تحقیق گزرگئی،اختلاف،مخالفت،دشمنی میں بڑا فرق ہے۔
۵
؎یعنی اے علی تم کو الله نے بڑی شان بخشی تمہاری محبت و الفت ایمان کی کسوٹی ہے تمہارا دشمن کافر ہے تمہارا محب مؤمن بشرطیکہ محبت صحیح ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6103