Main Icon

باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6102

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِيكَ مَثَلٌ مِنْ عِيسٰى أَبْغَضَتْهُ الْيَهُودُ حَتّٰى بَهَتُوا أُمَّهٗ وَأَحَبَّتْهُ النَّصَارٰى حَتّٰى أَنْزَلُوهُ بِالْمَنْزِلَةِ الَّتِي لَيْسَتْ لَهُ» . ثُمَّ قَالَ: يَهْلِكُ فِيَّ رَجُلَانِ: مُحِبٌّ مُفْرِطٌ يُقَرِّظُنِي بِمَا لَيْسَ فِيَّ وَمُبْغِضٌ يَحْمِلُهٗ شَنَآنِي عَلٰى أَنْ يَبْهَتَنِي. رَوَاهُ أَحْمَدُ

وعن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «فيك مثل من عيسى أبغضته اليهود حتى بهتوا أمه وأحبته النصارى حتى أنزلوه بالمنزلة التي ليست له» . ثم قال: يهلك في رجلان: محب مفرط يقرظني بما ليس في ومبغض يحمله شنآني على أن يبهتني. رواه أحمد

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ تم میں حضرت عیسیٰ کی مثال ہے ۱؎جن سے یہود نے بغض رکھا حتی کہ ان کی ماں کو تہمت لگائی ۲؎اور ان سے عیسائیوں نے محبت کی حتی کہ انہیں اس درجہ میں پہنچا دیا جو ان کا نہ تھا ۳؎پھر فرمایا میرے بارے میں دو قسم کے لوگ ہلاک ہوں گے محبت میں افراط کرنے والے مجھے ان صفات سے بڑھائیں گے جو مجھ میں نہیں ہیں ۴؎اور بغض کرنے والے جن کا بغض اس پر ابھارے گا مجھے بہتان لگائیں گے ۵؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎سبحان الله!جو زبان حق ترجمان سے نکلا وہ ہو کے رہا آج یہ نظارہ ہو رہا ہے،روافض حب علی کے دعویٰ میں حد سے آگے نکل گئے،خوارج بغض علی میں حد سے آگے نکل گئے۔ان شاءاللهاہلِ سنت کا بیڑا پار ہے۔الحمدللهہمارے ایک ہاتھ میں جناب علی کا دامن ہے دوسرے ہاتھ میں حضرت صدیق و فاروق کا،ہم بفضلہ تعالٰی اہل بیت کی کشتی میں سوار ہیں اور صحابہ کرام سے ہدایت لے رہے ہیں جو امت کے لیے ہدایت کے تارے ہیں۔
۲
؎چنانچہ یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت تو کیا آپ کی عظمت و شرافت ہی کا انکار کردیا جناب مریم کے دامن پاک میں زنا کا دھبہ لگادیا حضور صلی الله علیہ و سلم نے یہ دھبہ دھویا،قرآن کریم نے ان کی عصمت و عظمت کے خطبے ارشاد فرمائے رضی الله عنہا۔
۳
؎چنانچہ بعض عیسائیوں نے آپ کو خدا کہہ دیا،بعض نے آپ کو خدا کا بیٹا کہا،بعض نے تیسرا خدا۔غرضکہ عبدیت سے نکال کر الوہیت میں داخل کردیا۔
۴
؎چنانچہ بعض روافض حضرت علی کو حضورصلی اللہ علیہ و سلم سے افضل کہتے ہیں ان کا شعر ہے۔
علی کو مصطفی سے میں تو افضل کہہ نہیں سکتا مگر اپنے سے بہتر دیکھ کر داماد کرتے ہیں
بعض روافض آپ کو خدا کہتے ہیں۔یہ نصیری فرقہ کا مذہب ہے عام شیعہ یہ پڑھا کرتے ہیں
؎دکھا دو یا علی جلوہ نصیری کے خدا تم ہو یہ آنکھیں طالب دیدار ہیں حاجت روا تم ہو
لوگ بے وجہ نصیری کو برا کہتے ہیں کچھ تو دیکھا ہے علی میں جو خدا کہتے ہیں
۵
؎حضرت علی کے اس فرمان میں محبت کو افراط سے مقید کیا کیونکہ محبت علی اصل ایمان ہے ہاں محبت میں ناجائز افراط برا ہے مگر عداوت علی اصل ہی سے حرام بلکہ کبھی کفر ہے اس لیے شنان یعنی عداوت کو بغیر قید بیان فرمایا،بڑا ہی فصیح و بلیغ فرمان ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6102