Main Icon

باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6095

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: كُنْتُ إِذَا سَأَلَتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي وَإِذَا سَكَتُّ ابْتَدَأَنِي. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ «حَسَنٌ غَرِيبٌ»

وعن علي قال: كنت إذا سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم أعطاني وإذا سكت ابتدأني. رواه الترمذي وقال: هذاحديث «حسن غريب»

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ میں جب رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے مانگتا تھا تو آپ مجھے عطا فرماتے تھے ۱؎اور جب میں خاموش ہوتا تو آپ مجھ سے کلام کی ابتداء فرماتے ۲؎(ترمذی) اور فرمایا یہ حدیث حسن غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎اگر سوال سے مراد ہے کچھ پوچھنا تو عطا سے مراد ہے جواب دینا اور اگر سوال سے مراد ہے کچھ مانگنا تو عطا سے مراد ہے عطا فرمانا دونوں احتمال درست ہیں۔خیال رہے کہ کسی اور سے مانگنا باعث شرم ہے مگر حضور صلی الله علیہ و سلم سے مانگنا باعث فخر ہے ہمارا ہاتھ دست سوال ہے حضورکے سامنے پھیلنے کے لیے حضورصلی اللہ علیہ و سلم کا ہاتھ دست عطا ہے ہمارے پھیلے ہوئے ہاتھوں کو بھرنے کے لیے۔
۲
؎اس جملہ کے بھی دو مطلب ہیں: جب میں خاموش رہتا کچھ نہ پوچھتا نہ بولتا تو حضور انور خود مجھ سے کلام کی ابتداء فرماتے تاکہ میں بولوں۔دوسرے یہ کہ اگر میں کچھ نہ مانگتا تو حضور خود بغیر مانگے مجھے عطا فرماتے حضورصلی اللہ علیہ و سلم بن مانگے دینے والے داتاہیں صلی الله علیہ و سلم۔حضرت علی اس واقعہ سے اپنا قرب رسول بیان فرمارہے ہیں کہ مجھے اس بارگاہ میں بہت قرب تھا کیوں نہ ہوتا کہ علی نے آغوش رسول میں پرورش پائی تھی رضی الله عنہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6095