Main Icon

باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6101

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَبَّ عَلِيًّا فَقَدْ سَبَّنِيْ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ

وعنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من سب عليا فقد سبني» . رواه أحمد

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے جس نے علی کو برا کہا اس نے مجھے برا کہا ۱؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ جو کوئی حضرت علی کرم الله وجہہ کو نسبی خاندان کی گالی دے وہ درحقیقت الله کے محبوب صلی الله علیہ و سلم کو گالی دیتا ہے کیونکہ حضور بھی حضرت علی کے خاندان میں شامل ہیں یہ خالص کفر ہے۔دوسرے یہ کہ جو انہیں عناد سے برا کہے وہ درحقیقت مجھے برا کہتا ہے کیونکہ میں اور وہ گویا ایک ہی ہیں ان کی تعظیم میری تعظیم ہے،ان سے عداوت مجھ سے عداوت ہے۔خیال رہے کہ کبھی کسی صحابی نے حضرت علی سے نہ عداوت رکھی نہ انہیں برا کہا،ان میں اختلاف رہے ان سے مخالفت یا عداوت نہ تھی،یہ اختلاف ایسے ہی تھے جیسے حضرات برادران یوسف علیہ السلام کی مخالفت یوسف علیہ السلام سے یا جیسے حضرت سارہ کا حضرت ہاجرہ سے اختلاف کہ یہ نہ کفر ہے نہ فسق بلکہ اختلاف رائے ہے یہ حدیث بہت طریقوں سے مروی ہے۔چنانچہ امام احمد نے عروہ ابن زبیر سے روایت کی کہ ایک شخص نے حضرت عمر کے سامنے حضرت علی کی کچھ برائی کی تو حضرت عمر نے حضور صلی الله علیہ و سلم کی قبر شریف کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ کیا تم اس قبر کے مکین کو جانتے ہو اس میں محمد ابن عبدالله ابن عبدالمطلب جلوہ گر ہیں تم جب بھی علی کاذکر کرو تو خیر سے کرنا،اگر تم ان کی اہانت کی تو سمجھو کہ تم نے حضور کو ستایا۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6101