Main Icon

باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6088

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ زَرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ: وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ إِنَّهٗ لَعَهِدَ النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ: أَنْ لَا يُحِبَّنِي إِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُنِيْ إِلَّا مُنَافِقٌ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن زر بن حبيش قال: قال علي رضي الله عنه: والذي فلق الحبة وبرأ النسمة إنه لعهد النبي الأمي صلى الله عليه وسلم إلي: أن لا يحبني إلا مؤمن ولا يبغضني إلا منافق. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت زربن حبیش سے فرماتے ہیں فرمایا علی رضی الله عنہ نے اس کی قسم جس نے دانہ چیرا اور ہر جان کو پیدا کیا کہ مجھ سے نبی امی صلی الله علیہ و سلم نے عہد فرمایا کہ مجھ سے محبت نہ کرے گا مگر مؤمن اور مجھ سے نہ بغض رکھے گا مگر منافق ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎حب علی ایمان کی نشانی ہے بغض علی نفاق کی علامت ہے مگر محبت سے مراد ہے سچی محبت نہ کہ محض دعویٰ کی محبت، سچی محبت علی بفضلہ تعالٰی اہل سنت کو حاصل ہے۔سچی محبت کی چند علامات ہیں: ایک یہ کہ اعمال میں ان سرکار کی پیروی کرے ان کی مخالفت نہ کرے،حضرت علی کی ساری اولاد سارے دوستوں سے محبت کرے،بغض صحابہ اور حب علی ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتے۔غضب تو دیکھو کہ حضرت علی کے دو بیٹوں سے محبت اور ان کے باقی بیٹوں،باقی بیٹیوں سے عداوت،ابوبکر،عثمان ،ام کلثوم یہ سب اولاد علی ہیں ان کو گالیاں دیتے ہیں یہ محبت علی کیسی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6088