Main Icon

باب:باری کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3232

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ، فَأَيَّتهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أراد سفرا أقرع بين نسائه، فأيتهن خرج سهمها خرج بها معه. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتی ہیں کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم جب سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی ازواج پاک کے درمیان قرعہ ڈالتے تھے۱؎پھر ان میں سے جس کا حصہ نکل آیا اسے اپنے ساتھ لیجاتے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ ہر بی بی کا نام کاغذ کی پرچیوں پر لکھ کر ان کی گولیاں بنا کر کسی بچے کے ذریعہ ایک گولی اٹھواتے،اس میں جس کا نام نکل آتا،اس کو سفر میں لے جاتے،قرعہ ڈالنے کی اور بھی کئی صورتیں ہیں،مگر یہ زیادہ مروج ہے۔
۲
؎اس حدیث کی بناء پر امام شافعی فرماتے ہیں کہ گھر کی طرح سفر میں لے جانے میں بھی باری واجب ہے اور قرعہ کے ذریعہ لے جانا واجب ہے،مگر یہ دلیل نہایت ہی ضعیف ہے چند وجہ سے:ایک یہ کہ اگر سفر میں باری واجب ہوتی تو قرعہ کی ضرورت نہ پڑتی بلکہ ترتیب وار لے جانا واجب ہوتا کہ پہلے سفر میں ساتھ فلاں بی بی گئی تھی اب فلاں چلے،دوسرے یہ کہ یہ حضور انور کا فعل شریف ہے اور فعل سے بغیر امروجوب ثابت نہیں ہوتا حضور نے اس کا حکم نہ دیا۔تیسرے یہ کہ یہ عمل شریف بھی حضور نے اپنی طرف سے کیا حکم خداوندی نہ تھا،آپ پر بیویوں میں عدل گھر میں ہی واجب نہ تھا چہ جائیکہ سفر میں واجب ہوتا لہذا حق یہ ہی ہے کہ سفر میں باری مقرر کرنا واجب نہیں،جسے چاہے لے جائے،جسے چاہے چھوڑ دے،بعض بیویاں گھر کے انتظام کے لیے موزوں ہوتی ہیں بعض سفر کے انتظام کے لیے مناسب،ہاں مستحب ہے کہ قرعہ ڈال کر لے جائے،سرکار عالی کا یہ عمل شریف بیان استحباب کے لیے ہے دیکھو مرقات،لمعات فتح القدیر وغیرہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3232