Main Icon

باب:باری کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3230

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ سَوْدَةَ لَمَّا كَبِرَتْ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! قَدْ جَعَلْتُ يَوْمِي مِنْكَ لِعَائِشَةَ، فَكَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقْسِمُ لِعَائِشَةَ يَوْمَيْنِ: يَوْمَهَا وَيَوْمَ سَوْدَة. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن عائشة: أن سودة لما كبرت قالت: يا رسول الله! قد جعلت يومي منك لعائشة، فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقسم لعائشة يومين: يومها ويوم سودة. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ بی بی سودہ جب بوڑھی ہوگئیں ۱؎تو بولیں یارسول امیں نے اپنی باری کا دن حضرت عائشہ کو دے دیا چنانچہ پھر رسول اصلی اللہ علیہ و سلم جناب عائشہ کے لیے دو دن دیتے تھے ایک ان کا اپنا دوسرا سودہ کا ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام شریف سودہ بنت زمعہ ہے،مؤمنین اولین میں سے ہیں،پہلے اپنے چچا زاد کے نکاح میں رہیں جن کا نام سکران ابن عمرو تھا،ان کی وفات کے بعد حضور نے آپ سے نکاح کیا،یہ نکاح بی بی خدیجہ کی وفات کے بعد اور جناب عائشہ کے نکاح سے پہلے مکہ معظمہ میں ہوا وہاں ہی رخصت ہوئی،آخر میں آپ نے اپنی باری حضرت عائشہ صدیقہ کو ہبہ کردی،شوال ۵۴ھ؁ ∞ میں وفات ہوئی، مدینہ منورہ میں قبر انور ہے، فقیر نے زیارت کی ہے رضی اتعالٰی عنہا۔
۲
؎اس سے معلوم ہوا کہ بیوی اپنی باری اپنی سوکن کو دے سکتی ہے،کیونکہ حقوق کا ہبہ درست ہے لیکن بعد میں اگر چاہے تو اس سے رجوع بھی کرسکتی ہے، اسی طرح اپنانفقہ مہر وغیرہ معاف کرسکتی ہے،اس کی تفصیل کتب فقہ خصوصًا فتح القدیر میں ملاحظہ کیجئے،بعض روایات میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت سودہ کو طلاق دے دینے کا ارادہ فرمایا تھا، انہوں نے عرض کیا کہ میں چاہتی ہوں کہ قیامت کے دن آپ کی زوجیت میں اٹھوں مجھے طلاق نہ دیں،چنانچہ ایسا ہی کیا گیا رضی اللہ عنہا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3230