Main Icon

باب:باری کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3235

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْسِمُ بَيْنَ نِسَائِهِ فَيَعْدِلُ، وَيَقُولُ: "اللَّهُمَّ هَذَا قَسْمِي فِيمَا أَمْلِكُ، فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلَا أَمْلِكُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.

عن عائشة: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقسم بين نسائه فيعدل، ويقول: "اللهم هذا قسمي فيما أملك، فلا تلمني فيما تملك ولا أملك". رواه الترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اپنی ازواج پاک کے درمیان باری مقرر فرماتے تھے بہت انصاف فرماتے تھے ۱؎اور فرماتے تھے الہٰی یہ میری تقسیم ہے اس میں جس کا مالک ہوں پس تو مجھے اس میں عتاب نہ فرما جس کا تو مالک ہے میں مالک نہیں ۲؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎ہر طرح عدل فرماتے تھے باری میں،خرچہ میں،ہدیہ و عطیہ میں،یہ ایک کلمہ تمام قسم کے عدل اور انصاف کو شامل ہے مگر باری کا عدل استحبابًا تھا نہ کہ وجوبًا کیونکہ آپ پر باری واجب نہ تھی۔
۲
؎یعنی برتاوے میں تو ہر طرح برابری کرتا ہوں رہا میلان قلبی اور دلی محبت وہ حضرت عائشہ صدیقہ سے زیادہ ہے،دل تیرے قبضہ میں ہے اور زیادتی میلان تیری طرف سے ہے،اس میں مجھ پر عتاب نہ فرمانا۔اس سے معلوم ہوا کہ خاوند پر برتاوے اور ادائے حقوق میں برابر ی کرنا لازم ہے،میلان قلبی اگر کسی بیوی کی طرف زیادہ ہو تو اس کا گناہ نہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلَنۡ تَسْتَطِیۡعُوۡۤا اَنۡ تَعْدِلُوۡا بَیۡنَ النِّسَآءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِیۡلُوۡا کُلَّ الْمَیۡلِ فَتَذَرُوۡهَا کَالْمُعَلَّقَۃِ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3235