Main Icon

باب:اجازت لینے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4674

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عَطَاءِ بْنِ یَسَارٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَسْتَأْذِنُ عَلٰى أُمِّي؟ فَقَالَ: نَعَمْ فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنِّي مَعَهَا فِي الْبَيْتِ. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِسْتَأْذِنْ عَلَيْهَا فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنِّي خَادِمُهَا.فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِسْتَأْذِنْ عَلَيْهَا أَتُحِبُّ أَنْ تَرَاهَا عُرْيَانَةً؟ قَالَ: لَا. قَالَ: فَاسْتَأْذِنْ عَلَيْهَا . رَوَاهُ مَالِكٌ مُرسلاً

عن عطاء بن یسار أن رجلا سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: أستأذن على أمي؟ فقال: نعم فقال الرجل: إني معها في البيت. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: استأذن عليها فقال الرجل: إني خادمها.فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: استأذن عليها أتحب أن تراها عريانة؟ قال: لا. قال: فاستأذن عليها . رواه مالك مرسلا

حدیث ترجمہ

روایت ہے عطا ابن یسار سے ۱∞؎کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا بولا کیا میں اپنی ماں سے داخلہ کی اجازت لوں ۲؎فرمایا ہاں وہ بولا کہ میں گھر میں اس کے ساتھ رہتا ہوں۳؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے داخلہ کی اجازت لو تو وہ شخص بولا کہ میں تو اس کا خدمتگار ہوں۴؎تو رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اجازت داخلہ لو ۵؎کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اسے ننگا دیکھو وہ بولا نہیں تو فرمایا کہ اس سے داخلہ کی اجازت لو ۶؎(مالک ارسالًا)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کے حالات پہلے بیان ہوچکے کہ آپ حضرت میمونہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ہیں، جلیل القدر تابعی ہیں۔(اشعہ)۲؎یعنی اگر اکیلے گھر میں صرف میری ماں حقیقی یا سوتیلی یا دودھ کی یا اور کوئی محرم ہو جس سے نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہے ماں سے مراد باقی تمام ذی رحم محرم نہیں(مرقات)تو میں بغیر اجازت گھر چلا جاؤں یا ان سے بھی داخلہ کی اجازت لوں۔
۳
؎یعنی اگر میں اپنی ماں سے علیٰحدہ نہ رہتا ہوں بلکہ ایک گھر میں ساتھ ہی رہتا ہوں کہیں باہر گیا پھر آیا تو کیا پھر اجازت لوں۔
۴
؎اس خدمت گزاری کی وجہ سے بار بار مجھے جانا آنا پڑتا ہے ہر بار اجازت لینے میں حرج ہوگا۔
۵
؎اس اجازت میں یہ آسانی ہے کہ صرف کھانس دینا،پاؤں کی آہٹ کردینا،کنڈی بجادینا،مٹھار دینا کافی ہوگا باقاعدہ سلام کرکے اجازت لینا ضروری نہ ہوگا۔(مرقات)کسی طرح اپنی آمد کی اطلاع کافی ہوگی ۔
۶
؎سبحان الله!کیسی پیاری وجہ بیان ہوئی کہ چونکہ ماں کا ستر دیکھنا حرام ہے اور بے اجازت داخل ہونے میں اس کا اندیشہ ہے لہذا اطلاع کرکے آنا چاہیے،ہاں اگر گھر میں صرف بیوی ہو تو اطلاع کی ضرورت نہیں کہ بیوی سے حجاب نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4674