Main Icon

باب:اجازت لینے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4673

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتٰى بَابَ قَوْمٍ لَمْ يَسْتَقْبِلِ الْبَاب تِلْقَاءِ وَجْهِهٖ وَلٰكِنْ مِنْ رُكْنِهٖ الْأَيْمَنِ أَوِ الْأَيْسَرِ فَيَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَذٰلِكَ أَنَّ الدُّوَرَ لَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا سُتُورٌ. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَذُكِرَ حَدِيثُ أَنَسٍ قَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ فِي بَابِ الضِّيَافَةِ

وعن عبد الله بن بسر قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أتى باب قوم لم يستقبل الباب تلقاء وجهه ولكن من ركنه الأيمن أو الأيسر فيقول: السلام عليكم السلام عليكم وذلك أن الدور لم يكن يومئذ عليها ستور. رواه أبوداود وذكر حديث أنس قال: السلام عليكم ورحمة الله في باب الضيافة

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن بسر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم کے دروازے پر آتے تو منہ کے طرف سے دروازے کے سامنے نہ ہوتے لیکن اس کے داہنے یا بائیں رہتے ۱∞؎پھر فرماتے السلام علیکم،السلام علیکم یہ اس لیے تھا کہ اس زمانہ میں گھروں پر پردے نہ تھے ۲؎(ابوداؤد)اور حضرت انس کی حدیث کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا السلام علیکم دعوت کے باب میں ذکر کردی گئی۳؎

شرح حدیث

۱∞؎سامنے اس لیے نہ کھڑے ہوتے تاکہ پردہ کے سوراخوں کواڑ کے جھروں سے اندرونی حصہ نظر نہ آوے اور گھر والوں کی بے پردگی نہ ہو۔
۲
؎یعنی کواڑوں کے پردے نہ تھے صرف ٹاٹ پڑے رہتے تھے اب جب کہ دروازوں پر کواڑ وغیرہ ہیں تب بھی بالکل دروازے کے سامنے نہ کھڑا ہونا کہ کواڑوں کی چھڑی سے یا پردہ ہٹ جانے سے گھر والوں کی بے پردگی نہ ہو۔
۳
؎یعنی وہ حدیث مصابیح میں یہاں تھی ہم نے مناسبت کا لحاظ رکھتے ہوئے دعوت کے باب میں نقل کردی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4673