Main Icon

باب:اجازت لینے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4671

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ كَلَدَةَ بْنِ حَنْبَلٍ: أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ بَعَثَ بِلَبَنٍ أَوْ جِدَایَةٍ وَضَغَابِيسَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَعْلَى الوَادِيْ قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ وَلَمْ أُسَلِّمْ وَلَمْ أَسْتَأْذِنْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اِرْجِعْ فَقُلْ: اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَدْخُلْ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ

عن كلدة بن حنبل: أن صفوان بن أمية بعث بلبن أو جدایة وضغابيس إلى النبي صلى الله عليه وسلم والنبي صلى الله عليه وسلم بأعلى الوادي قال: فدخلت عليه ولم أسلم ولم أستأذن فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " ارجع فقل: السلام عليكم أدخل ". رواه الترمذي وأبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے کلدہ ابن حنبل سے کہ صفوان ابن امیہ نے ۱∞؎دودھ یا ہرنی کا بچہ اور ککڑیاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجیں ۲؎اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے اعلیٰ حصہ میں تھے ۳؎فرماتے ہیں کہ میں آپ کے پاس حاضر ہوا تو نہ میں نے سلام کیا نہ اجازت لی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوٹ جاؤ پھر کہو السلام علیکم پھر اندر آؤ ۴؎(ترمذی،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎کلدہ ابن امیہ ماں شریکے بھائی ہیں صفوان ابن امیہ کے،صفوان قرشی ہیں،فتح مکہ کے بعد اسلام لائے،مؤلفۃ القلوب سے ہیں، ان کا باپ امیہ ابن خلف بدر کے دن دوسرے مشرکین کے ساتھ مارا گیا،یہ مکہ معظمہ میں فوت ہوئے وہاں ہی دفن ہوئے، صفوان بڑے فصیح خطیب تھے۔(مرقات)۲؎جدایہہرنی کے شش ماہیہ بچے کو کہتے ہیں اورجدیبکری کے شش ماہیہ بچے کو کہا جاتا ہے،ضغابیسجمع ہےضغیوسکی بمعنی چھوٹی ککڑی جسے پنجابی میں گلہ کہتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ گلے بہت پسند تھے۔
۳
؎مکہ معظمہ کے اونچے محلوں کو معلی کہا جاتا ہے اور مدینہ منورہ کے بیرونی بلند حصوں کو عوالی کہتے ہیں۔اشعہ نے فرمایا کہ حضور انور مکہ معظمہ کے اعلیٰ حصہ میں تھے،مرقات نے کہا کہ مدینہ منورہ میں یہ واقعہ ہوا حضور وہاں تشریف فرما تھے۔
۴
؎یہ عمل اس لیے فرمایا تاکہ انہیں یاد رہے اور آئندہ ایسی غلطی نہ کریں۔جو شخص ہمارے گھر میں بغیر سلام آئے اسے پھر باہر بھیجو اور کہو کہ دوبارہ سلام کرکے آؤان شاءاللهایک دفعہ کے عمل سے اسے سلام کی عادت پڑ جاوے گی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4671