Main Icon

باب:فال اور بدفال لینے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4584

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الطِّيَرَةُ شِرْكٌ قَالَهٗ ثَلَاثًا وَمَا مِنَّا إِلَّا وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يُذْهِبُهٗ بِالتَّوَكُّلِ. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ:سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ يَقُولُ: كَانَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ يَقُولُ فِي هٰذَا الْحَدِيثِ: وَمَا مِنَّا إِلَّا وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يُذْهِبُهٗ بِالتَّوَكُّلِ . هٰذَا عِنْدِي قَوْلُ ابْنِ مَسْعُودٍ

وعن عبد الله بن مسعود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: الطيرة شرك قاله ثلاثا وما منا إلا ولكن الله يذهبه بالتوكل. رواه أبوداود والترمذي وقال:سمعت محمد بن إسماعيل يقول: كان سليمان بن حرب يقول في هذا الحديث: وما منا إلا ولكن الله يذهبه بالتوكل . هذا عندي قول ابن مسعود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرمایا پرندے اڑانا شرک سے ہے ۱∞؎یہ تین بار فرمایا اور نہیں ہے ہم سے کوئی مگر اللہ تعالیٰ اس کو توکل سے لے جاتا ہے ۲؎(ابوداؤد و ترمذی)فرمایا ترمذی نے کہ میں نے محمد بن اسمعیل کو فرماتے سنا کہ سلیمان ابن حرب اس حدیث کے بارے میں فرماتے تھے۳؎کہوما منا الا و لکن الله یذھبہ بالتوکلمیرے نزدیک یہ ابن مسعود کا قول ہے ۴؎

شرح حدیث

۱∞؎شرک عملی ہے مشرکوں کا سا کام یا شرک خفی۔
۲
؎الاکے بعد ایک عبارت پوشیدہ ہےیخطر فی بالہاورلکنسے نیا کلام ہےیذھبہمیںہکی ضمیر اسی خطرہ کی طرف ہے،معنی یہ ہیں کہ ہم مسلمانوں سے جو کوئی بدفالیاں لیتا ہے تو وہ خطرات و شبہات میں پڑ جاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ اس شبہ و خطرہ کو توکل کے ذریعہ ختم فرمادیتا ہے کہ جو کوئی توکل اختیار کرے وہ ان شبہات میں نہیں پڑتا۔اس مطلب کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے احمد،طبرانی نے حضرت عبداللہ ابن عمرو سے مرفوعًا روایت کیا کہ جسے بدفالی اس کے کام سے روک دے وہ مشر ک ہوگیا،اس کا کفارہ یہ ہے کہ یہ کہہ لےاللہم لاخیر الاخیرك ولا طیر الا طیرك ولا الہ غیرك"اس کی کچھ بحث تیسری فصل میں آئے گی۔ان شاء الله!(مرقات)۳؎سلیمان ابن حرب اس حدیث کے راویوں میں سے ہیں،قاضی مکہ تھے،بصرہ کے رہنے والے اپنے وقت کے امام فن تھے،آپ کے سبق میں چالیس ہزار طلباء ہوتے تھے،ماہ صفر ۱۴۰؁∞ ایک سو چالیس میں پیدا ہوئے اور ۱۵۸؁∞ ایک سو اٹھاون میں فن حدیث سے فارغ ہوئے،انیس سال تک حماد ابن زید محدث کے ساتھ رہے، امام احمد ابن حنبل کے استادوں میں سے ہیں، ۲۲۴ھ؁∞ دوسو چوبیس میں وفات پائی۔(مرقات)۴؎یعنی یہ عبارت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالی نہیں بلکہ حضرت ابن مسعود کا اپنا قول ہے حدیث توالطیر شركپرختم ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4584