Main Icon

باب:فال اور بدفال لینے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4588

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ بُرَيْدَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَطَيَّرُ مِنْ شَيْءٍ فَإِذَا بَعَثَ عَامِلًا سَأَلَ عَنْ اِسْمِهٖ فَإِذَا أَعْجَبَهٗ اسْمُهٗ فَرِحَ بِهٖ وَرُئِيَ بِشْرُ ذٰلِكَ فِي وَجْهِهٖ وَإِنْ كَرِهَ اسْمَهٗ رُئِيَ كَرَاهِيَةُ ذٰلِكَ على وَجْهِهٖ وَإِذَا دَخَلَ قَرْيَةً سَأَلَ عَنْ اسْمِهَا فَإِنْ أَعْجَبَهٗ اسْمُهَا فَرِحَ بِهٖ وَرُئِيَ بِشْرُ ذٰلِكَ فِي وَجْهِهٖ وَإِنْ كَرِهَ اسْمَهَا رُئِيَ كَرَاهِيَة ذٰلِكَ فِي وَجْهِهٖ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن بريدة: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يتطير من شيء فإذا بعث عاملا سأل عن اسمه فإذا أعجبه اسمه فرح به ورئي بشر ذلك في وجهه وإن كره اسمه رئي كراهية ذلك على وجهه وإذا دخل قرية سأل عن اسمها فإن أعجبه اسمها فرح به ورئي بشر ذلك في وجهه وإن كره اسمها رئي كراهية ذلك في وجهه. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت بریدہ (رضی اللہ عنہ)سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض چیزوں سے فال لیتے تھے چنانچہ آپ جب کسی کو عامل بنا کر بھیجتے تو اس کا نام پوچھتے اگر اس کا نام آپ کو پسند آتا تو اس سے خوش ہوتے ۱∞؎اور اس کی خوشی آپ کے چہرے میں دیکھی جاتی اور اگر اس کا نام ناپسند ہوتا تو اس کی ناپسندیدگی آپ کے چہرے میں دیکھی جاتی ۲؎اور جب کسی بستی میں جاتے تو اس کا نام پوچھتے تو اگر اس کا نام پسند فرماتے تو اس سے خوش ہوتے اور اس کی خوشی آپ کے چہرہ انور میں دیکھی جاتی اور اگر اس کا نام ناپسند فرماتے تو آپ کے چہرہ میں اس کی ناپسندیدگی محسوس ہوتی ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اس لیے علماء فرماتے ہیں کہ اپنی اولاد کے نام اچھے رکھو نام کا اثر نام والے پر پڑتاہے،برے نام والے کو لوگ اپنے پاس نہیں بیٹھنے دیتے،اچھے نام والے کے کام بھیان شاءاللهاچھے ہوتے ہیں۔
۲
؎یعنی حضور برے ناموں کو بہت ناپسند فرماتے تھے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص سے پوچھا تیرا نام کیا ہے وہ بولا جمرہ(انگارہ)کہا کس کا بیٹا ہے کہا شہاب کا(شعلہ)کہا تو کہاں رہتا ہے بولا حراقہ میں(جلن)کہا کس محلہ میں بولا بحرۃ النار میں (آگ کا دائرہ)فرمایا کس طرف بولا ذات نطی میں،آپ نے فرمایا تو اپنا گھر جا کر دیکھ جل چکا ہے دیکھا تو واقعی گھر اور گھر والے جل چکے تھے۔عرب کہتے ہیںالاسماء من السماءنام آسمان سے تعلق رکھتے ہیں۔(مرقات)اہل عرب اپنے بیٹو ں کا نام رکھتے تھے اسد(شیر)ذئب (بھیڑیا)کلب (کتا)اور اپنے غلاموں کے نام رکھتے تھےراشدنجیحاور کہتے تھے کہ ہمارے غلام ہماری خدمت کے لیے ہیں اور ہمارے بیٹے دشمنوں کے مقابلہ کے لیے۔(مرقات)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بچوں،غلاموں کے نام اچھے رکھو۔
۳
؎ہمارے ہاں پنجاب میں بعض دیہات کے نام ہیں نور پور،مدینہ،جمالپور ایسے نام بڑے مبارک ہیں،بعض بستیوں کے نام ہیں شیطانیہ،خونی چک وغیرہ یہ نام اچھے نہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم بستیوں کے برے نام بھی ناپسند فرماتے تھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4588