Main Icon

باب:فال اور بدفال لینے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4586

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:«لَا هَامَةَ وَلَا عَدْوٰى وَلَا طِيَرَةَ وَإِنْ تَكُنِ الطِّيَرَةُ فِي شَيْءٍ فَفِي الدَّارِ وَالْفَرْسِ وَالْمَرأَةِ ».رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن سعد بن مالك أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:«لا هامة ولا عدوى ولا طيرة وإن تكن الطيرة في شيء ففي الدار والفرس والمرأة ».رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعد ابن مالک سے ۱∞؎کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہ تو الو کوئی شئے ہے اور نہ مرض کا اڑکر لگنا نہ نحوست،اگر کسی چیز میں نحوست ہو تو گھر میں، گھوڑے اور عورت میں ہوگی ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت ابوسعید خدری کا نام سعد،ان کے والد کا نام مالک ابن سنان یہ دونوں صحابی ہیں،خدرہ قبیلہ انصار کا ایک خاندان ہے اس لیے انہیں خدری کہا جاتا ہے، ۷۴؁∞ چوہتر ہجری میں مدینہ منورہ میں وفات پائی،بقیع سے باہر دفن ہیں یہاں وہ ہی مراد ہیں۔(اشعہ)۲؎محدثین نے اس عبارت کے چند مطلب بیان فرمائے:ایک یہ کہطیرہسے مراد نحوست ہے اور مطلب یہ ہے کہ اگر کسی چیز میں نحوست ہوتی تو ان تین چیز میں ہوتی لیکن ان میں تو ہے نہیں لہذا کسی شے میں نہیں۔دوسرے یہ کہ اگر نحوست ہو تو ان تین میں ہوگی مگر یقین نہیں لہذا ان میں سے کسی چیز کو یقین سے منحوس نہ جانو۔تیسرے یہ کہ یہاںطیرہسے مراد ناپسندیدگی ہے یعنی تین چیزیں کبھی دل کو ناپسندہوتی ہیں نحوست مرادنہیں۔(مرقات)چوتھے یہ کہ عورت کی نحوست اس کا بانجھ ہونا،خاوند کا نافرمان ہونا گھر میں لڑائی رکھنا ہے،گھوڑے کی نحوست اس کا اڑیل ہونا،سرکش ہونا ہے کہ مالک کو سواری نہ دے،یوں ہی گھر کی نحوست یہ ہے کہ مسجد سے دور ہو وہاں اذان کی آواز نہ آتی ہو اور نہ وہاں ذکر اللہ ہوتا ہو۔ (مرقات و اشعہ)اس صورت میں حدیث بالکل ظاہر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4586