Main Icon

باب:فال اور بدفال لینے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4587

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعْجِبُهٗ إِذَا خَرَجَ لِحَاجَةٍ أَنْ يَسْمَعَ: يَا رَاشِدُ يَا نَجِيحُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يعجبه إذا خرج لحاجة أن يسمع: يا راشد يا نجيح. رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کام کے لیے روانہ ہوتے تو آپ کو یہ پسند تھا کہ سنیں اےراشداےنجیح۱∞؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎راشدکے معنی ہیں ہدایت یافتہ اورنجیحکے معنی ہیں کامیاب،کسی کام کو جاتے وقت یہ الفاظ سننا اس لیے پسند تھا کہ ان سے اللہ کے فضل و کامیابی کی امید ہوجاتی ہے۔معلوم ہوا کہ نیک فال لینا بالکل جائز ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4587