Main Icon

باب:فال اور بدفال لینے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4580

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا عَدْوٰى وَلَا صَفَرَ وَلَا غَوْلَ » . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن جابر قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «لا عدوى ولا صفر ولا غول » . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ نہ تعدی کوئی چیز ہے نہ صفر نہ بھوت ۱∞؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎بعض لوگوں کا خیال تھا اور ہے کہ خبیث لوگوں کی روحیں مرنے کے بعد بھوت بن کر جنگلوں میں پھرتی ہیں اور لوگوں کو ستاتی ہیں یہاں اس کا انکار فرمایا گیا ورنہ بھوت بمعنی سرکش جنات کا ثبوت ہے وہ انسانوں کو ستاتے بھی ہیں۔حدیث شریف میں ہےاذا تفولت الغیلان فبادروا بالاذانجب بھوت سرکشی کریں تو اذان دو،حضرت ابو ایوب انصاری فرماتے ہیں میرے طاق میں کھجوریں تھیں انہیں بھوت کھا جاتے تھے۔ (مرقات)قرآن کریم فرماتاہے:"یَتَخَبَّطُہُ الشَّیۡطٰنُ مِنَ الْمَسِّ" شیطان اسے چھوکر دیوانہ کردیتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4580