Main Icon

باب:فال اور بدفال لینے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4578

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا عَدْوٰى وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ» . فَقَالَ أَعْرَابِيٌ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ فَمَا بَالُ الْإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ لَكَأَنَّهَا الظِّبَاءُ فَيُخَالِطُهَا الْبَعِيرُ الأَجْرَبُ فَيُجْرِ بُهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « فَمَنْ أَعْدَى الأَوَّلَ » . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا عدوى ولا هامة ولا صفر» . فقال أعرابي: يا رسول الله فما بال الإبل تكون في الرمل لكأنها الظباء فيخالطها البعير الأجرب فيجر بها؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « فمن أعدى الأول » . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ مرض کا اڑ کر لگنا ہے نہ کوئی چیز ہے اور نہ صفر تو ایک دیہاتی نے عرض کیا یارسول اللہ اونٹ کا کیا حال ہے کہ وہ ریگستان میں ہرن کی طرح ہوتا ہے ۱∞؎پھر اس سے خارشی اونٹ ملتا ہے تو اسے خارشی کردیتا ہے۲؎رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو پھر پہلے اونٹ کو کس نے خارشی کردیا۳؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جب تک اونٹ ریگستان میں الگ تھلگ رہتا ہے ہرن کی طرح صاف ستھرا بے عیب ہوتا ہے۔
۲
؎مقصد یہ ہے کہ حضور مرض کی تعدی کا انکار فرماتے ہیں مگر تجربہ شاہد ہے کہ تعدی ہوتی ہے مرض اڑکر لگتا ہے ہم نے اپنے اونٹوں میں اس کا مشاہدہ کیا ہے۔
۳
؎یعنی اگر خارش اڑ کر ہی لگتی ہے تو سب سے پہلا خارشی اونٹ جس سے خارش کی ابتدا ہوئی اسے خارش کہاں سے لگی وہاں تو کہنا پڑے گا کہ رب کے حکم سے وہ خارشی ہوا تو آیندہ بقیہ اونٹ بھی اس کے حکم سے خارشی ہوئے اللہ تعالیٰ پر نظر رکھو۔ یہاںاعدیفرمانا مشاکلت کے لیے ہے جیسےکما تدین تدانیا جیسےجزاء سیئۃ سیئۃورنہ فرمایا جاتافمن اعطی الاول۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4578