Main Icon

باب:فال اور بدفال لینے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4579

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا عَدْوٰى وَلَا هَامَةَ وَلَا نَوْءَ وَلَا صَفَرَ » . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا عدوى ولا هامة ولا نوء ولا صفر » . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بیماری کا اڑکر لگنا ہے نہ الو ہے نہ برج ہے اور نہ صفر ۱∞؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎ان تمام لفظوں کی شرح ابھی ہوچکی۔نوءکے معنی ہیںبرج،اس کی جمع ہےانواءٌ،یہ برج اٹھائیس ہیں چاند کی منزلیں اہلِ عرب بلکہ ہندوستان کے مشرکین بھی بارش کو چاند کے اثر سے مانتے ہیں کہ چونکہ چاند فلاں برج میں پہنچا لہذا بارش ہوئی رب کا نام نہیں لیتے اس لیے یہ ارشاد ہوا کہ برج وغیرہ کوئی چیز نہیں بارش محض عطا الٰہی ہے۔شعر
جب آویں برسن کے تاؤ پروا دیکھیں نہ پچھوا باؤ
جب بارش کا وقت آجاتا ہے تو پوربی پچَھمی کوئی ہوا ہو بارش ہوجاتی ہے،یوں ہی نیک بختی بدبختی کو ستاروں کے متعلق ماننا جائز نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4579