Main Icon

باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6020

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا وَلَكِنَّهٗ أَخِي وَصَاحِبِي وَقَدِ اتَّخَذَ اللّٰهُ صَاحِبَكُمْ خَلِيلًا». رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن عبد الله بن مسعود عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لو كنت متخذا خليلا لاتخذت أبا بكر خليلا ولكنه أخي وصاحبي وقد اتخذ الله صاحبكم خليلا». رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرمایا اگر میں کسی کو دوست بناتا تو ابوبکر کو دوست بناتا لیکن وہ میرے بھائی اور میرے ساتھی ہیں اور اللہ نے تمہارے صاحب کو دوست بنایا ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎صاحبکمسے مراد خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے یعنی اللہ نے مجھے اپنا خلیل اپنا دوست بنالیا ہے تو میں نے بھی اس کو اپنا خلیل بنالیا اس کے سوا کوئی نہیں بنایا۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر مؤمن کے صاحب یعنی ساتھ رہنے والے ہیں،رب فرماتاہے:"وَ مَا صَاحِبُکُمۡ بِمَجْنُوۡنٍ"اور فرماتاہے:"مَا ضَلَّ صَاحِبُکُمْ وَمَا غَوٰی"کیونکہ حضور انور ہر مؤمن کے دل میں ایمان میں،جان میں،سفر میں،قبر میں،حشرمیں ساتھ رہتے ہیں،حضور ہر مؤمن کے ہر وقت ہر جگہ کے ساتھی ہیں جیسے جان جسم کی ساتھی۔خیال رہے کہ حضرت ابراہیم بھی خلیل اللہ ہیں اور حضور انور بھی مگر ان دونوں خلتوں میں فرق ہے۔خلت محمدی اعلیٰ واکمل ہے خلت ابراہیمی سے،جناب ابراہیم اللہ کے ایسے خلیل ہیں کہ جو رب کہتا ہے وہ آپ کرتے ہیں مگر حضور اللہ کے ایسے خلیل کہ جو آپ کہتے ہیں وہ رب کرتا ہے،دیکھو فرماتاہے:"فَلَنُوَ لِّیَنَّكَ قِبْلَۃً تَرْضٰىھَا"اور فرماتاہے:"وَلَسَوْفَ یُعْطِیۡكَ رَبُّكَفَتَرْضٰی∞"اسی لیے حضور کا لقب ہے حبیب اللہ جو حضور انور کا ہوجاوے وہ بھی اللہ کا دوست ہوجاتا ہے"فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحْبِبْکُمُ اللهُ"مسجد کی چٹائی لوٹا وغیرہ سب مسجد کی طرح اللہ کی ہوجاتی ہیں یعنی وقف۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6020