Main Icon

باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6022

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ فَكَلَّمَتْهُ فِي شَيْءٍ فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهِ قَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَرَأَيْتَ إِنْ جِئْتُ وَلَمْ أَجِدْكَ؟ كَأَنَّهَا تُرِيدُ الْمَوْتَ. قَالَ: «فَإِنْ لَمْ تَجِدِينِي فَأْتِي أَبَا بَكْرٍ». (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن جبير بن مطعم قال: أتت النبي صلى الله عليه وسلم امرأة فكلمته في شيء فأمرها أن ترجع إليه قال: يا رسول الله أرأيت إن جئت ولم أجدك؟ كأنها تريد الموت. قال: «فإن لم تجديني فأتي أبا بكر». (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جبیر ابن مطعم سے ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ سلم کے پاس ایک عورت آئی اس نے کسی چیز کے متعلق حضور سے بات کی۲؎تو اسے حضور نے دوبارہ حاضری کا حکم دیا وہ بولی یارسول اللہ فرمائیے تو اگر میں آؤ ں اور آپ کو نہ پاؤں شاید اس کی مراد موت تھی۳؎فرمایا اگر تومجھے نہ پائے تو ابو بکر کے پاس آجانا۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ قرشی ہیں،نوفل ابن عبدمناف کی اولاد سے،آپ کا نام جبیر ہے،کنیت ابو محمد،فتح مکہ سے ایک سال پہلے خیبر کی فتح پر ایمان لائے حضرت ابو بکر صدیق کے شاگرد تھے۔
۲
؎یا تو کوئی مقدمہ پیش کیا فیصلہ کے لیے یا حضور سے کچھ مانگا یا کوئی مسئلہ پوچھا پہلا احتمال قوی ہے۔کسی مقدمہ میں حاکم کا تاریخ دینا جائز ہے،اس کی اصل یہ حدیث ہے حضور نے اسے کل کی تاریخ دی۔
۳
؎یہ واقعہ حضور کی وفات شریف سے قریب کا ہے اس بی بی کا مطلب یہ تھا کہ اگر حضور کل سے پہلے وفات پاجائیں تو کس سے فیصلہ کراؤں۔
۴
؎یعنی اگر میری وفات ہوجاوے تو ابوبکر صدیق سے اپنا فیصلہ کرا لینا،اس فرمان عالی میں حضرت صدیق اکبر کی خلافت کی طرف اشارہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6022