Main Icon

باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6034

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَنْ عُمَرَ ذُكِرَ عِنْدَهٗ أَبُو بَكْرٍ فَبَكٰى وَقَالَ: وَدِدْتُ أَنَّ عَمَلِي كُلَّهٗ مِثْلُ عَمَلِهٖ يَوْمًا وَاحِدًا مِنْ أَيَّامِهٖ وَلَيْلَةً وَاحِدَةً مِنْ لَيَالِيهِ أَمَّا لَيْلَتُهٗ فَلَيْلَةٌ سَارَ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْغَارِ، فَلَمَّا انْتهَيَا إِلَيْهِ قَالَ: وَاللّٰهِ لَا تَدْخُلُهٗ حَتّٰى أَدْخُلَ قَبْلَكَ فَإِنْ كَانَ فِيهِ شَيْءٌ أَصَابَنِي دُونَكَ فَدَخَلَ فَكَسَحَهٗ وَوَجَدَ فِي جَانِبِهٖ ثُقْبًا فَشَقَّ إزَارَهٗ وَسَدَّهَابِهٖ وَبَقِي مِنْهَا اثْنَانِ فَأَلْقَمَهُمَا رِجْلَيْهِ ثُمَّ قَالَ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادْخُلْ فَدَخَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَضَعَ رَأْسَهٗ فِي حَجْرِهٖوَنَامَ فَلُدِغَ أَبُو بَكْرٍ فِي رِجْلِهٖ مِنَ الْجُحْرِ وَلَمْ يَتَحَرَّكْ مَخَافَةَ أَنْ يَنْتَبِهَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَقَطَتْ دُمُوعُهٗ عَلٰى وَجْهِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا لَكَ يَاأَبَابَكْرٍ؟» قَالَ: لُدِغْتُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي فَتَفِلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبَ مَا يَجِدُهٗ ثُمَّ انْتَقَضَ عَلَيْهِ وَكَانَ سَبَبَ مَوْتِهٖ وَأَمَّا يَوْمُهٗ فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْتَدَّتِ الْعَرَبُ وَقَالُوا: لَا نُؤَدِّي زَكَاةً. فَقَالَ: لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا لَجَاهَدْتُهُمْ عَلَيْهِ. فَقُلْتُ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَأَلَّفِ النَّاسَ وَارْفُقْ بِهِمْ. فَقَالَ لِي: أَجَبَّارٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَخَوَّارٌ فِي الْإِسْلَامِ؟ إِنَّهٗ قَدِ انْقَطَعَ الْوَحْيُ وَتَمَّ الدِّينُ أَيَنْقُصُ وَأَنا حَيٌّ؟ . رَوَاهُ رَزِينٌ

عن عمر ذكر عنده أبو بكر فبكى وقال: وددت أن عملي كله مثل عمله يوما واحدا من أيامه وليلة واحدة من لياليه أما ليلته فليلة سار مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى الغار، فلما انتهيا إليه قال: والله لا تدخله حتى أدخل قبلك فإن كان فيه شيء أصابني دونك فدخل فكسحه ووجد في جانبه ثقبا فشق إزاره وسدهابه وبقي منها اثنان فألقمهما رجليه ثم قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم ادخل فدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم ووضع رأسه في حجرهونام فلدغ أبو بكر في رجله من الجحر ولم يتحرك مخافة أن ينتبه رسول الله صلى الله عليه وسلم فسقطت دموعه على وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «ما لك ياأبابكر؟» قال: لدغت فداك أبي وأمي فتفل رسول الله صلى الله عليه وسلم فذهب ما يجده ثم انتقض عليه وكان سبب موته وأما يومه فلما قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم ارتدت العرب وقالوا: لا نؤدي زكاة. فقال: لو منعوني عقالا لجاهدتهم عليه. فقلت: يا خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم تألف الناس وارفق بهم. فقال لي: أجبار في الجاهلية وخوار في الإسلام؟ إنه قد انقطع الوحي وتم الدين أينقص وأنا حي؟ . رواه رزين

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمر سے کہ ان کے پاس حضرت ابوبکر کا ذکر کیا گیا تو آپ روئے اور بولے کہ میری آرزو یہ ہے کہ میرے سارے عمل حضرت ابوبکر کے ایک دن کے اور ایک رات کے عمل کی طرح ہوتے ۱؎آپ کی رات وہ رات ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غار کی طرف پہنچے تو جب وہ دونوں اس غار تک پہنچے عرض کیا واللہ آپ اس میں داخل نہ ہوں حتی کہ آپ سے پہلے میں داخل ہوجاؤں اگر اس میں کوئی چیز ہوتو مجھے پہنچے نہ کہ آپ کو تو آپ داخل ہوئے اسے صاف کیا ۲؎اور اس کے ایک کنارہ میں سوراخ پایا آپ نے تہبند پھاڑا اس سے سوراخ بندکیا ان میں سے دو سوراخ رہ گئے ان میں اپنے پاؤں دیدیئے ۳؎پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ تشریف لائیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اپنا سر آپ کی گود میں رکھا اور سو گئے ۴؎ابوبکر کے پاؤں میں سوراخ سے ڈس لیا گیا ۵؎آپ نے بالکل جنبش نہ کی اس ڈر سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جاگ پڑیں۶؎پھر آپ کے آنسو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر گرے۷؎تو فرمایا اے ابوبکر کیا ہوا عرض کیا آپ پر میرے ماں باپ فدا میں تو ڈس لیا گیا تب رسول اللہ نے اپنا لعاب لگادیا تو وہ تکلیف جاتی رہی۸؎جو وہ پاتے تھے پھر وہ زہر لوٹ آیا اور آپ کی وفات کا سبب بنا ۹؎لیکن آپ کا دن تو جب رسول اللہ نے وفات پائی اہلِ عرب مرتد ہوگئے اور بولے کہ ہم زکوۃ نہ دیں گے۱۰؎تو فرمایا کہ اگر مجھے ایک رسی کا انکار کریں گے تو میں ان پر جہاد کروں گا
۱۱
؎میں نے عرض کیا کہ اے رسول اللہ کے خلیفہ لوگوں پر موافقت کریں اور ان پر نرمی کیجئے ۱۲؎تو مجھ سے فرمایا کہ تم جاہلیت میں سخت تھے۱۳؎اور اسلام میں نرم،وحی بند ہوچکی اور دین مکمل ہوچکا کیا دین میں کمی کی جاوے گی حالانکہ میں زندہ ہوں۱۴؎(رزین)۱۵؎

شرح حدیث

۱∞؎اس فرمان فاروقی کے تین مطلب ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ وہ دونیکیاں اپنی مجھے دے دیتے اور میری ساری نیکیاں خود لے لیتے۔دوسرے یہ کہ مجھے بجائے ان تمام نیکیوں کے وہ دو نیکیاں میسر ہوجاتیں۔تیسرے یہ کہ قیامت میں رب تعالٰی میری تمام نیکیوں کو حضرت صدیق کو ان دو نیکیوں کی طرح قرار دے دے۔
۲
؎اس سے معلوم ہوا کہ نگاهِ فاروقی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت حضور پر جان نچھاور کرنا ساری نیکیوں سے افضل ہے۔ حضرت عمر اپنی ساری نمازوں،سارے روزوں،سارے جہادوں،ساری فتوحاتِ اسلامیہ کو اس غار کے جھاڑنے سوراخ میں پاؤں لگانے،سانپ سے کٹوانے،حضور انور کا سر اپنے زانو پر رکھنے پر قربان کر رہے ہیں۔حضرت صدیق نے اس رات تہجد،سجدے سجود نہیں کیے تھے بلکہ محبوب کی یہ خدمات کی تھیں اعلیٰ حضرت قدس سرہ فرماتے ہیں۔شعر
مولٰی علی نے واری تیری نیند پر نماز
اور وہ بھی عصر سب سے جو اعلی خطر کی ہے
صدیق بلکہ غار میں جاں اپنی دے چکے
اور حفظِ جاں تو اصل فروض غرر کی ہے
گو تو نے ان کو جان پھیر دی غار پر
وہ تو کرچکے تھے جو کرنی بشر کی ہے
ثابت ہوا کہ جملہ فروع ہیں اصل الاصول بندگی اس تاجور کی ہے اس رات جناب صدیق نے وہ عبادت کی جو روئے زمین پر اس وقت کوئی نہیں کررہا تھا یعنی اپنے زانو پر حضور کا سر رکھ کر حضور کے چہرے کو تکتے رہنا اس وقت یہ عبادت کوئی نہیں کررہا تھا رضی اللہ عنہ۔
۳
؎یہ ہے درجہ فنا فی الرسول اور عشق صادق کا،عشق نے لباس کے ٹکڑے اڑا دیئے دونوں پاؤں سوراخوں سے کٹوا دیئے،اس وقت عجیب کیفیت سے حضرت صدیق وہاں بیٹھے ہوں گے کہ پاؤں اوپر ہیں خود نیچے ہیں اس نشست پر ہزارہا نماز کی نشستیں قربان ہوں۔
۴
؎آج حضرت ابوبکر صدیق کا زانو کعبہ معظمہ بلکہ عرش معلی سے افضل تھا۔رحل پر قرآن رکھا جاوے تو وہ محترم ہے جس کی گود صاحبِ قرآن کی رحل بنے وہ کیوں نہ افضل ہوگا۔خیال رہے کہ جناب آمنہ حلیمہ ثویبہ کی گود میں حضور نے پرورش پائی،حضرت ابوبکرو علی کی گود میں حضور نے سر رکھ کر آرام فرمایا،ہجرت کی رات ابوبکر کی گود میں اور خیبر کے دن حضرت علی کےزانو ں پر،حضرت عائشہ صدیقہ کے سینہ پر حضور انور کی وفات ہوئی۔یہ گود یہ زانو بہت ہی افضل ہیں جیسے آل عبا کچھ دیر کے لیے حضور کی عبا کمبل شریف میں رہے تو افضل ہوگئے ایسے ہی یہ حضرات ان نسبتوں سے سارے جہان سے افضل ہوئے۔یہ فقیر ان گودوں ان زانوؤں کے توسل سے دعائیں کیا کرتا ہے رب تعالٰی سے قبولیت کی امید ہے۔
۵
؎یعنی مار غار نے یار غار کو کاٹ لیا عرب کا سانپ بہت ہی زہریلا ہوتا ہے،سانپ نے کئی بار کاٹا ایک ہی جگہ تاکہ آپ اپنا پاؤں ہٹالیں مگر پاؤں نہ ہٹا،جان کہتی ہے کہ ہٹاؤ ایمان کہتا ہے کہ جنبش نہ کرو وہاں ایمان جان پر غالب رہا۔
۶
؎جب سانپ کا زہر جسم میں اثر کرتا ہے تو اعضاء بدن میں سخت پٹخنی پڑتی ہے،اس وقت انہیں روکنا بڑی ہی ہمت و جرأت کی بات ہے۔
۷
؎آپ کے یہ آنسو سخت تکلیف کی وجہ سے غیر اختیاری طور پر جاری ہوئے جنہیں حضور انور کے نورانی چہرے پر جگہ ملی۔
۸
؎حضور انور کے لعاب شریف کے معجزات بھی شمار سے باہر ہیں۔حضرت علی کی دُکھتی آنکھوں میں لگا تو اس نے کحل الجواہر کا نفع دیا،سیدنا عبداللہ بن عتیک کی ٹوٹی پنڈلی میں لگا تو ہڈی جوڑنے والے سریش کا کام کیا،حضرت طلحہ کے گندھے ہوئے آٹے اور گوشت کی ہانڈی میں پڑا تو بے مثال برکت دی،حضرت ابوبکر صدیق کے ڈسے ہوئے پاؤں کے انگوٹھے میں لگا تو تریاق کا کام دیا،لعاب کیا ہے اللہ کی قدرتوں کا مظہر اتم ہے۔بعض صالحین کو فرماتے سنا گیا کہ جو شیخ صدیقی حضرت محمد ابن ابوبکر کی اولاد سے ہیں انہیں سانپ یا تو کاٹتا نہیں اگر کاٹے تو اثر نہیں کرتا اس لعاب شریف کا اثر ہے اور ان کی اولاد کے پاؤں کے انگوٹھے میں سیاہ تل ہوتا ہے حتی کہ اگر ماں باپ دونوں کی طرف سے شیخ صدیقی ہو تو دونوں پاؤں کے انگوٹھے میں یہ تل ہوگا۔میں نے بہت صدیقی حضرات کے پاؤں کے انگوٹھے میں یہ تل دیکھے ہیں غرضکہ یہ عجیب معجزات ہیں۔
۹
؎اس طرح کہ حضرت ابوبکر صدیق کی وفات کے وقت یہ ہی سانپ کا اثر لوٹ آیا اسی زہر سے آپ کی وفات ہوئی اور آپ کو درجہ شہادت عطا ہوا یہاں بھی فنا فی الرسول کی جلوہ گری ہے۔حضور انور کی وفات خیبر والے زہر سے ہوئی کہ اس کا اثر واپس آیا اور جناب صدیق کی وفات غار ثور والے سانپ کے زہر سے ہوئی،حضور کی وفات کی شب چراغ میں تیل نہ تھا اورحضرت ابوبکر کی وفات کے وقت گھر میں کفن کے لیے کپڑا نہ تھا،پہنے ہوئے کپڑے دھوکر انہیں میں کفن دیا گیا یہ ہے اسلام کا پہلا تاجدار رضی اللہ عنہ۔
۱۰
؎ظاہر یہ ہے کہ یہ لوگ زکوۃ کی فرضیت کے منکر ہوگئے لہذا مرتد ہوگئے تھے کہ فرض کا انکار کفر ہے اور ہوسکتا ہے کہ یہ لوگ ظاہری مال زکوۃ سلطان اسلام کو ادا کرنے کے منکر ہوگئے ہوں تو باغی ہوئے دونوں سے قتل جائز ہے۔اس کی تحقیق کتاب الزکوۃ میں گزر گئی وہاں کہا گیا ہے کہ اب مال باطن سونا چاندی اور مال ظاہری جانور وغیرہ سب کی زکوۃ خود مال والا ہی دے سلطان کو نہ دے۔
۱۱
؎عقالعین کے کسرہ سے بمعنی رسی بھی آتا ہے اور بمعنی بکری کا بچہ بھی یہاں دونوں احتمال ہیں،بعض روایات میں بجائےعقالکے عناق آیا ہے بمعنی بکری کا بچہ۔مقصود یہ ہے کہ اگر معمولی زکوۃ بھی ہم کو سپرد نہ کریں تو ان پر جہاد ہوگا۔
۱۲
؎یعنی ان پر جہاد نہ کریں بلکہ کچھ ڈھیل دیں اورنرمی سے انہیں سمجھادیں حضرت علی بلکہ تمام صحابہ نے حضرت صدیق اکبر سے یہ ہی عرض کیا وہ بولے کہ حضور انور صاحب معجزات تھے مگر آپ نے تئیس سال میں احکام شرعیہ جاری فرمائے ہم یک دم کیسے جاری کرسکتے ہیں،آپ نے کسی کی بات نہ مانی اور حضرت فاروق اعظم کو جواب دیا جو یہاں مذکور ہے۔(حاشیہ اشعۃ اللمعات)
۱۳
؎یہ ہے حضرت ابوبکر صدیق کی قوتِ ایمانی کہ دین کے معاملہ میں کسی کی مخالفت کی پرواہ نہیں۔
۱۴
؎یعنی اپنے جیتے جی اسلام میں کوئی رخنہ نہیں پڑنے دوں گا میرے بعد اللہ حافظ ہے۔خیال رہے کہ حضرت ابوبکر صدیق نے زمانہ جاہلیت میں کبھی کفر وشرک نہیں کیا۔مرقات میں بحوالہمعال العرش الحبیبروایت نقل فرمائی کہ ایک دن ابوبکر صدیق نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یارسول اللہ میں نے کبھی کسی بت کو سجدہ نہیں کیا ایک بار مجھے میرے باپ ابوقحافہ ایک بت کے سامنے لے گئے اور کہا یہ ہے ہمارا رب اسے سجدہ کر،باپ کسی کام کو گئے میں نے بت سے کہا میں بھوکا ہوں مجھے کھانا دے،میں ننگا ہوں مجھے کپڑا دے،پھر میں نے ایک پتھر اٹھایا اور کہا اگر تو خدا ہے تو میری مار سے اپنے کو بچالے،یہ کہہ کر میں نے اسے اس پتھر سے توڑ دیا میرے باپ نے آکر یہ دیکھا تو بولے یہ کیا،میں نے کہا دیکھ لو اپنے خدا کا حال جو میری مار سے نہ بچ سکا،میرے باپ نے یہ شکایت میری ماں سے کی وہ بولیں کہ میں نے صدیق کی پیدائش کے وقت ایک غیبی آواز سنی کہ اے اللہ کی بندی بشارت ہو اس بچے کی جو عتیق ہے،رسول اللہ کا رفیق ہے،آسمان میں اس کا نام صدیق۔(مرقات یہ ہی مقام) جب حضرت صدیق حضور کو یہ واقعہ سنا چکے تو حضرت جبریل نازل ہوئے اور فرمایا صدیق سچ کہہ رہے ہیں۔(مرقات)
۱۵
؎یہ حدیث نسائی نے بدین الفاظ نقل کی اور بخاری مسلم نے اس کے معنی روایت کئے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6034