Main Icon

باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6031

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَنْتَ عَتِيقُ اللّٰهِ مِنَ النَّارِ» . فَيَوْمئِذٍ سُمِّيَ عَتيقًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن عائشة أن أبا بكر دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «أنت عتيق الله من النار» . فيومئذ سمي عتيقا. رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ جناب ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو فرمایا کہ تم آگ سے اللہ کی طرف سے آزاد شدہ ہو ۱؎اس دن سے آپ کا نام عتیق رکھا گیا۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎عتیق کے بہت معنی ہیں: پرانا،افضل جیسے کعبہ کو بیت عتیق کہتے ہیں،آزاد شدہ،آزاد کرنے والا،آپ کا نام عبداللہ ہے،کنیت ابو بکر،لقب عتیق،آپ کی زوجہ کا نام اسماء بنت عمیس ہے،آپ نے وصیت کی تھی کہ مجھے یہ ہی غسل دیں ایسا ہی کیا گیا۔(مرقات)
۲
؎یہاں عتیق بمعنی آزاد کرنے والا ہے،حضرت صدیق کے غلام بھی دوزخ سے آزاد ہیں؎تو ہے آزاد سقر سے ترے بندے آزاد
ہے یہ سالک بھی ترا بندہ بے زر صدیق
حضور کے سارے صحابہ ہی آگ سے آزاد ہیں"
وَکُلًّا وَّعَدَ اللهُ الْحُسْنٰی"مگر جناب صدیق کی آزادی کسی خاص نوعیت کی ہے جیسے"لِیَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۡۢبِكَ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6031