Main Icon

باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6024

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ:قُلْتُ لِأَبِي: أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَبُو بَكْرٍ. قُلْتُ:ثُمَّ مَنْ؟قَالَ: عُمَرُ. وَخَشِيتُ أَنْ يَقُولَ: عُثْمَانُ. قُلْتُ: ثُمَّ أَنْتَ قَالَ: «مَا أَنَا إِلَّا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ». رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن محمد بن الحنفية قال:قلت لأبي: أي الناس خير بعد النبي صلى الله عليه وسلم؟ قال: أبو بكر. قلت:ثم من؟قال: عمر. وخشيت أن يقول: عثمان. قلت: ثم أنت قال: «ما أنا إلا رجل من المسلمين». رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت محمد ابن حنفِیہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لوگوں میں کون بہتر ہے ۲؎فرمایا ابوبکر میں نے کہا پھر کون فرمایا عمر،میں ڈرا کہ آپ کہہ دیں گے کہ عثمان تو میں نے کہا پھر آپ نے فرمایا میں تو نہیں مگر مسلمانوں میں سے ایک شخص۳؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ محمد بن علی ابن ابی طالب ہیں،آپ کی والدہ کا نام خولہ بنت جعفر ابن قیس ہے،قبیلہ بنی حنیفہ سے تھیں جو خلافت صدیقی میں گرفتار ہوکر جنگ یمامہ میں آئیں اور حضرت علی کو دی گئیں،آپ تابعی مشہورعالم بڑے بہادر تھے،ایک بار ایک زرہ حضرت علی کی خدمت میں پیش کی گئی جو آپ کے قد شریف سے بڑی تھی محمد ابن حنفِیہ نے اپنے ہاتھ سے زائد زرہ توڑ کر حضرت علی کے قد پر فٹ کردی،کسی نے آپ سے پوچھا کہ حضرت علی جنگ میں تم کو بھیجا کرتے ہیں حسن و حسین کو نہیں بھیجتے فرمایا وہ دونوں آنکھیں ہیں میں بہادر ہاتھ ہوں آنکھوں کی حفاظت ہاتھ سے کی جاتی ہے۔
۲
؎یہ سوال حضرت علی کی خلافت کے زمانہ میں ہوا تھا جب کہ حضرات شیخین و عثمان غنی وفات پاچکے تھے۔
۳
؎یہ فرمان حضرت علی کی انتہائی تواضع اور انکساری پر ہے ورنہ ان تین خلفاء کے بعد افضل الخلق آپ ہی ہیں رضی اللہ عنہ و کرم اللہ وجہہ الکریم۔(مرقات و اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6024